جب تک کے پی میں ہماری حکومت نہ ہو کرپشن ختم نہیں ہو سکتی: مولانا فضل الرحمٰن
پشاور میں پریس کانفرنس
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) جمعیت علماءاسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ کے پی میں پیپلز پارٹی کا احتجاج کرپشن کے خلاف نہیں بلکہ اس لئے تھا کہ ان کا ریکارڈ کیوں توڑا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب تک کے پی میں ہماری حکومت قائم نہ ہو، کرپشن ختم نہیں ہو سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: جوہری تنصیبات سے متعلق ایرانی سلامتی کے مشیر کا اہم بیان
پیپلز پارٹی کے احتجاج کی حقیقت
روز نامہ جنگ کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ ہماری کردار کشی کی گئی مگر ہمارے خلاف ایک ایف آئی آر تک درج نہ کر سکے۔ انہوں نے فرمایا کہ آج ملک میں آئین کو پامال کیا جا رہا ہے اور حکومت کے اقدامات کو مسترد کرتے ہیں۔ آئندہ مختلف شہروں میں جلسوں کا انعقاد کریں گے، اور 29 جون کو ہزارہ ڈویژن میں ایک بڑا اجتماع منعقد کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کس خاتون رکن کی اجلاس میں تعریف کر دی ؟ جانیے
تحریک کی پیشرفت
مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات کو مسترد کرتے ہیں اور عملی طور پر میدان میں اتریں گے۔ اب صرف ایک موضوع پر جلسے نہیں ہوں گے بلکہ تحریک کو آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پیپلز پارٹی نے احتجاج کرپشن کے خلاف نہیں کیا بلکہ اپنے کرپشن کے ریکارڈ ٹوٹنے پر احتجاج کیا ہے۔ اگر واقعی کرپشن ہوئی ہے تو صرف الزام تراشی کافی نہیں، بلکہ عدالتی کارروائی کی ضرورت ہے۔ 40 ارب روپے کی کرپشن کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی عدالت نے وائس آف امریکا کے 1000 ملازمین کی بحالی روک دی
چائلڈ میرج ایکٹ پر موقف
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ جے یو آئی ف کم عمر کی شادی کے بل کو مسترد کرتی ہے۔ آئین کی رو سے قرآن و سنت کے منافی قانون سازی نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دین میں شادی کے لئے عمر کی حد نہیں بلکہ بلوغت کی شرط مقرر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملیبرن کنسرٹ پلانر نے بھارتی گلوکارہ نیہا ککڑ کی پول کھول دی، تنازعہ شدت اختیار کرگیا
بھارت کی جارحیت اور خطے کی صورتحال
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ مودی کی حماقتوں کی وجہ سے خطے کو ایک جنگ میں الجھا دیا گیا ہے۔ دنیا میں نائن الیون کے بعد ایک محوریت قائم ہوئی ہے اور اب ہم ایک نئی جنگ میں داخل ہو چکے ہیں، جے یو آئی کی تجویز یہی ہے کہ ایشیاء کو مضبوط کریں۔
پاک افغان تعلقات
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ بھارت کی جانب سے جارحیت کے امکانات موجود ہیں۔ بھارتی حکمران کی حماقتوں کی وجہ سے خطے کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان باہمی تعلقات ایک دوسرے کے لئے ناگزیر ہیں، اور مودی کی احمقانہ پالیسیوں کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔








