مولانا فضل الرحمٰن شادی کو بلوغت سے جوڑتے ہیں جبکہ اسلام اور آئین انصاف، تحفظ اور انسانی وقار پر زور دیتے ہیں: شرمیلا فاروقی
ردعمل برائے مولانا فضل الرحمٰن کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی کی رکنِ قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے بیان پر ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری ہسپتالوں میں سٹیٹ آف دی آرٹ ریفرل سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ، وزیراعلیٰ مریم نوازنے جامع پلان طلب کر لیا
شرمیلا فاروقی کا موقف
ایک بیان میں شرمیلا فاروقی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن شادی کو بلوغت سے جوڑتے ہیں جبکہ اسلام اور آئینِ پاکستان انصاف، تحفظ اور انسانی وقار پر زور دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یونان کے ساحل کے قریب کشتی حادثہ، 22 تارکین وطن لقمۂ اجل بن گئے
آئینی تحفظات
’’جنگ‘‘ کے مطابق شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ آئین کا آرٹیکل 25 ۔1 واضح کرتا ہے کہ قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں اور قانونی تحفظ کے مساوی حق دار ہیں جبکہ آرٹیکل 25-2 کہتا ہے کہ جنس کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں ہو گی۔ ہم ایسے طریقوں کا جواز پیش نہیں کر سکتے جو بنیادی انسانی حقوق اور آئینی ضمانتوں کی خلاف ورزی کرتے ہوں۔
شادی کی کم از کم عمر میں اضافہ
شرمیلا فاروقی نے مزید کہا کہ شادی کی کم از کم عمر بڑھانا انصاف کی طرف ایک قدم ہے۔








