کیا پاکستان بٹ کوائن خریدے گا؟ کرپٹو کونسل کے چیئرمین بلال بن ثاقب کا بڑا اعلان
پاکستان کے معاون خصوصی برائے کرپٹو کا بیان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے کرپٹو و بلاک چین بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ ہم کوئی پیسے خرچ کرکے بٹ کوائن نہیں خرید رہے اور پاکستان میں جو بٹ کوائن ضبط کیے گئے ہیں ان کو ہم استعمال کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: جعلی ڈگری پر امریکا جانے والی خاتون کو 6 سال قید کی سزا
بٹ کوائن میں سرمایہ کاری کا موقف
نجی ٹی وی جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان بٹ کوائن میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کررہا بلکہ دنیا کی دوسری کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری پر بجلی فراہم کرے گا، کرپٹو کو ریگولیٹ نہ کرنا رسک ہے تاہم کرپٹو شفاف اور ٹریس ایبل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سارا پاکستان مجبوری میں ہے، پولیس مجبور ہے، میڈیا مجبور ہے لیکن ہم مجبور نہیں، ہم نے فیصلہ کر لیا ہے آزادی یا موت، علیمہ خان
کرپٹو کونسل اور عالمی سطح پر استعمال
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کرپٹو کونسل بنی ہے جو دیکھ رہی ہے کہ ریگولیشنز کو کس طرف لےکر جانا ہے، عالمی سطح پر غلط سرگرمیوں کےکرپٹو کے استعمال کی شرح 0.024 فیصد اور کیش کی شرح 2 سے4 فیصد ہے، منی لانڈرنگ میں کرپٹو کے استعمال کی شرح کیش سے بہت کم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے خلاف یہ آپریشن اب اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک۔۔‘‘ پاکستان نے واضح اعلان کر دیا
کرپٹو کی نئی ٹیکنالوجی اور فوائد
بلال بن ثاقب کا کہنا تھا کہ کرپٹو کی لوگوں کو سمجھ نہیں ہے کیونکہ یہ نئی ٹیکنالوجی ہے، فیصلہ سازوں اور ٹیکنالوجی سے واقف نوجوانوں کے درمیان بڑا خلا ہے، جو ممالک کرپٹو کو اپنا رہے ہیں تو اس کے فوائد کو دیکھ رہے ہیں، کرپٹو اپنانے والے ممالک کی معاشی حالت پاکستان سے بہتر ہے، کرپٹو کے بہت زیادہ معاشی فائدے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مودی کی امرناتھ یاتریوں کو قربان کرنے کی سازش بے نقاب، کامران شاہد کا بھارت کو سخت انتباہ
ریگولیشن کے اہمیت
انہوں نے مزید کہا کہ کرپٹو کو ریگولیٹ نہ کرنا بڑا رسک ہے، کرپٹو کو ریگولیٹ کرکے ہم اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی طرف بھی جا سکتے ہیں، نوجوان ہمارا بڑا اثاثہ ہیں، انہیں تربیت، بہتر مواقع اور پالیسیاں نہیں دیں تو یہ بوجھ بن جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ڈیٹا لینا ضروری ہے، عطا تارڑ
بٹ کوائن کے قومی والٹ کا منصوبہ
معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ہم کوئی پیسے خرچ کرکے بٹ کوائن نہیں خرید رہے، پاکستان میں جو بٹ کوائن ضبط کیے گئے ہیں ان کو ہم استعمال کریں گے، ان کو ہم بٹ کوائن نیشنل والٹ بناکر اس میں ڈال دیں گے، جب مائننگ شروع ہوگی تو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ہوگی، پارٹنر شپ سے حکومت جو بٹ کوائن کمائے گی وہ اسی والٹ میں آئیں گے، ہم ڈونیشن بھی جمع کررہے ہیں، والٹ میں پوری دنیا سے ڈونیشن آئیں گے۔
پاکستان کی بین الاقوامی حیثیت
بلال بن ثاقب نے کہا کہ لوگ پاکستان کو سپورٹ کرنا چاہتے ہیں، لوگوں کو یقین ہے کہ پاکستان اس ٹیکنالوجی کو زبردست طریقے سے استعمال کرے گا، ہم جس ریگولیٹر فریم ورک پر کام کر رہے ہیں وہ فیٹف پالیسیوں سے ہم آہنگ ہے، پاکستان کے لیے اپنے لوہا منوانے کا یہ بہترین موقع ہے، دیگر 6 ممالک نے ہم سے رابطہ کیا ہے، ہم ان کی مدد کرسکتے ہیں۔








