بھارتی قیادت کا بیانیہ امن کا نہیں بلکہ دشمنی کو ترجیح دینے والا ہے: پاکستان
پاکستان کا بھارتی بیانات پر سخت ردعمل
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی قیادت کے حالیہ اشتعال انگیز بیانات پر دفتر خارجہ پاکستان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی قیادت کا بیانیہ امن نہیں بلکہ دشمنی کو ترجیح دینے والا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات میں پاکستان سے ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے مدد مانگی گئی تو یہاں سے پاک امریکہ تعلقات کا نیا دور شروع ہو گا،، صحافی عمر اظہر کا تجزیہ
پاکستان کی خودمختاری کا دفاع
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیاہے کہ بھارت کے پاکستان میں دہشتگردی کی معاونت کے شواہد موجود ہیں، کھوکھلے بیانیے اور توجہ ہٹانے کی کوششیں سچ کو چھپا نہیں سکتیں، پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر اپنی خودمختاری کے دفاع کے لئے پرعزم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کو اسرائیل کے مقابلے میں کم تر درجے کے ایف 35 جنگی طیارے دیے جائیں گے، امریکی حکام کا دعویٰ
بھارت کی جانب سے غلط بیانی
ترجمان نے کہا کہ بھارتی قیادت کا بیانیہ امن نہیں، دشمنی کو ترجیح دینے والا ہے، بھارت کا پاکستان کو عدم استحکام کا ذمہ دار ٹھہرانا حقائق سے انحراف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انفلوئنسر سوفی رین نے اپنی آمدن کا انکشاف کرکے سوشل میڈیا صارفین کو حیران کر دیا
مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کا تنازع خطے کے امن و استحکام کے لئے بنیادی خطرہ ہے، پاکستان کشمیری عوام کی خواہشات اور یو این قراردادوں کے مطابق حل کا حامی ہے جبکہ مسئلہ کشمیر کو نظرانداز کرنا خطے کو بداعتمادی اور تصادم میں جھونکنے کے مترادف ہے۔
دھمکیاں بے سود ہیں
ترجمان نے مزید کہا کہ حالیہ واقعات سے واضح ہے کہ جنگی جنون اور دھونس بے سود ہیں، بھارت دھمکیوں، غلط بیانی یا طاقت کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتا۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لئے سنجیدگی، برداشت اور مسئلے کی اصل جڑ کو سمجھنا ہوگا۔








