شہری کالعدم تنظیموں کو قربانی کی کھالیں نہ دیں: محکمہ داخلہ پنجاب

محکمہ داخلہ پنجاب کی ہدایت

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) محکمہ داخلہ پنجاب نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کالعدم تنظیموں اور ان کے ذیلی اداروں کو قربانی کی کھالیں نہ دیں۔

یہ بھی پڑھیں: عوام کے لیے بری خبر، ایک ماہ کے لیے بجلی 48 پیسے فی یونٹ مہنگی ہونے کا امکان ہے

رجسٹرڈ اداروں کو کھالیں دینے کی ہدایت

نجی ٹی وی جیونیوز کے مطابق، پنجاب حکام نے قربانی کی کھالیں صرف پنجاب چیریٹی کمیشن سے رجسٹرڈ اداروں کو دینے کی ہدایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حمیرہ اصغر کیس: تحقیقات میں پیش رفت، پولیس نے الیکٹرانکس گیجٹس کھول لیے

کالعدم تنظیموں کی فہرست

محکمہ داخلہ پنجاب نے کالعدم تنظیموں اور ان کے ذیلی اداروں کی فہرست جاری کی ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان تنظیموں کو قربانی کی کھالیں نہ دیں۔

یہ بھی پڑھیں: صومالی قذاقوں سے خوفزدہ پاکستانی اور ایرانی مچھیرے: “یہ اپنی موت کی طرف خود بڑھنے جیسا ہے”

قانونی پہلو

ترجمان محکمہ داخلہ نے بتایا کہ انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 کے تحت کالعدم تنظیموں کی معاونت جرم ہے۔ ایسے افراد جو ان تنظیموں کی امداد کریں گے، قانون کے شکنجے میں آئیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: صارفین کی منظوری کے بغیر کسی سے بھی ان کا ڈیٹا شیئر نہیں کیا جائے گا: گورنر سٹیٹ بینک

کھالیں دے کر تصدیق کیسے کریں

محکمہ داخلہ نے شہریوں سے کہا ہے کہ قربانی کی کھالیں صرف پنجاب چیریٹی کمیشن سے رجسٹرڈ اداروں کو دیں۔ رجسٹرڈ اداروں کی تصدیق ان کے سرٹیفکیٹ پر موجود کیو آر کوڈ سے کی جا سکتی ہے۔

صحیح حقدار تک امداد پہنچانا

ترجمان نے مزید کہا کہ شہری یہ یقینی بنائیں کہ ان کی امداد دہشتگردوں کے بجائے صحیح حقدار تک پہنچے۔ اس کے لئے رجسٹرڈ اداروں کی تفصیلات محکمہ داخلہ پنجاب کی ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہیں، جبکہ پنجاب چیریٹی کمیشن اور نیکٹا کی ویب سائٹ پر بھی تمام کالعدم تنظیموں کی تفصیلات موجود ہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...