وزیر اعظم کی ہدایات پر عمل کر کے ایف بی آر نے زیر التواء مقدمات میں بڑی کامیابی حاصل کرلی
وزیراعظم کی خصوصی دلچسپی
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم کی خصوصی دلچسپی کی بدولت اور سخت ہدایات پر ایف بی آر نے اپنے قانونی نظام میں نمایاں بہتری لاتے ہوئے زیر التواء مقدمات میں بڑی کامیابی حاصل کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے ایران اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہتے ہوئے اسے علاقائی امن کے لیے خوش آئند قرار دے دیا
اسلام آباد ہائی کورٹ میں کامیاب پیروی
وزیراعظم کی ہدایات پر، ایف بی آر نے معزز اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا کیسز کی بھرپور پیروی کی، جس کے نتیجے میں گزشتہ ہفتے ایف بی آر کے حق میں فیصلے دیتے ہوئے معزز عدالت نے مجموعی طور پر 36.14 ارب روپے مالیت کے مقدمات نمٹا دیے۔
یہ بھی پڑھیں: قوم کو خوشی منانی چاہیے ، پاکستان اشتعال انگیزی نہیں چاہتا، امن کا خواہاں ہے: صدر مملکت
ریونیو کی واپسی
کھربوں روپے کا ریونیو جو عرصہ دراز سے مختلف مقدمات میں پھنس کر رہ گیا تھا اور قومی محصولات کی وصولی میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا تھا، وزیراعظم کی خصوصی ہدایات پر قانونی کارروائیوں اور نمائندگی کے لیے ایک مربوط حکمتِ عملی وضع کی گئی۔ اس کی بدولت ایف بی آر کو نمایاں کامیابیاں ملنے کا سلسلہ شروع ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد میں پیزا خور ڈکیت گروہ سرگرم، ڈلیوری بوائے سے اسلحے کے زور پر 4 پیزا لے اڑے
اہم مقدمات کی کامیابیاں
گزشتہ ہفتے کی نمایاں کامیابیوں میں تین بڑے ٹیکس مقدمات شامل ہیں، جن میں بحریہ ٹاؤن (پرائیویٹ) لمیٹڈ کا مقدمہ سب سے اہم ہے، جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے 26.446 ارب روپے کی ریکوری کا فیصلہ ایف بی آر کے حق میں برقرار رکھا ہے۔ یہ مقدمات گزشتہ ڈھائی سال سے مختلف اپیلٹ فورمز پر زیر التواء تھے۔
دوسرے کارپوریٹ مقدمات
اسی طرح، دو دیگر کارپوریٹ مقدمات جن کی مجموعی مالیت 9.7 ارب روپے ہے، ان میں بھی معزز عدالت نے ایف بی آر کے مؤقف کو تسلیم کیا۔ یہ کامیابیاں وزیرِ اعظم پاکستان کی قیادت میں حکومت کے عزم اور معاشی اصلاحات کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔








