پٹواریوں کی اسامیوں کیلئے اشتہار جاری کرنے کی ہدایت
اسلام آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکرٹری داخلہ، اسٹیبلشمنٹ اور چیف کمشنر کو پٹواریوں کی اسامیوں کے لئے اشتہار جاری کرنے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں: جے شاہ 35 سال کی عمر میں کرکٹ کی دنیا کا سب سے طاقتور آدمی کیسے بنے؟
کیس کی تفصیلات
روزنامہ جنگ کے مطابق، عدالت میں پٹواریوں کی اسامیوں پر غیر متعلقہ افراد کے کام کرنے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ اس کیس کی سماعت کے دوران وزارت داخلہ کے حکام عدالت میں پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی اسلام آباد میں نئے سال سے ایک ہی وقت اذان اور باجماعت نماز کا اعلان
جسٹس محسن اختر کیانی کا بیان
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اسلام آباد کے شہریوں کے حقوق کی بات ہے۔ پٹواری آفس میں لوگ خوار ہوتے ہیں۔ کیوں نہ میں سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو عدالت میں بلا لوں؟
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رہنما عمر ڈار کو سیالکوٹ میں احتجاجی ریلی کے دوران گرفتار کر لیا گیا
پٹواریوں کے رولز کی عدم موجودگی
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں 1981ء سے پٹواریوں کے رولز نہیں ہیں۔ وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا کہ پنجاب کے رولز کے تحت یہاں پٹواری کام کرتے ہیں، عدالت جو حکم کرے گی ہم من و عن عمل کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سیاسی جماعتیں نیم جمہوری ہیں، مخالف کا سرقلم کرنے والا خود بھی سزا بھگتتا ہے، خواجہ سعد رفیق
عدالت کی ہدایات
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اگر آپ عدالت کے احکامات پر چلتے تو کیا بات تھی۔ 45 پٹوار سرکل میں 9 لوگ کام کر رہے ہیں۔ میں نے ایف آئی آر کا آرڈر نہیں دیا کہ لوگوں کی بھرتیاں کریں، ایک ہفتے میں این او سی جاری کیا جائے اور چیف کمشنر بھرتیاں کرے۔ وزارت داخلہ کے حکام نے بتایا کہ این او سی کا کام اسٹیبلشمنٹ کا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ کا 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا حتمی فیصلہ
موجودہ پٹواریوں کی صورت حال
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ موجودہ پٹواریوں نے منشی رکھے ہوئے ہیں، بغیر آرڈر منشی لگائے گئے ہیں۔ رولز میں منشی کی اسامیاں بھی رکھ لیں تاکہ قانونی بندے کام کریں۔
آئندہ سماعت کی ہدایات
انہوں نے مزید کہا کہ میں پٹواری کی بھرتیوں کے لئے ڈی سی کو ایک چانس دے رہا ہوں۔ اگر میں ایف آئی آر کا حکم دیا تو سب اندر ہوجائیں گے۔ آج 45 سرکلز کو 9 پٹواری چلا رہے ہیں اور منشی ساتھ بیٹھے ہیں۔ ان کے خلاف ثبوت بھی موجود ہیں۔ آئندہ سماعت تک اگر ان تینوں کی میٹنگ نہیں ہوئی تو عدالت میں ہی میٹنگ کرواﺅں گا۔ عدالت نے ہدایات کے ساتھ کیس کی سماعت ایک ماہ بعد تک ملتوی کر دی۔








