یوکرین کا روس کے بمبار طیاروں پر بڑا حملہ، کیا اس سے جنگ کی پوزیشن تبدیل ہوگی؟
یوکرین کا بڑا ڈرون حملہ
کیف (ڈیلی پاکستان آن لائن) یوکرین نے روس کے چار مختلف ایئربیسز پر ایک بڑے ڈرون حملے میں روسی فضائیہ کے 41 سٹریٹجک بمبار طیاروں کو تباہ یا انہیں شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان طیاروں میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے Tu-22M، Tu-95 اور A-50 جیسے جدید وارننگ طیارے شامل تھے۔ حملے کا ہدف وہ طیارے تھے جو روسی حدود سے یوکرین پر کروز اور بیلسٹک میزائل داغنے کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: لیسکو کی جانب سے ریکوری کے عمل میں تیزی، 283 نادہندگان سے کتنے واجبات وصول کر لیے گئے۔ جان کر آپ حیران رہ جائیں
حملے کی منصوبہ بندی
الجزیرہ کے مطابق یہ حملہ "دی سپائیڈر ویب" کے نام سے یوکرینی خفیہ ایجنسی نے 18 ماہ کی منصوبہ بندی کے بعد کیا، جس میں سستے اور چھوٹے فرسٹ پرسن ویو ڈرونز (ایف پی وی) استعمال کیے گئے جو عام لکڑی کے کریٹس میں چھپا کر ایئربیسز کے قریب پہنچائے گئے۔ ان ڈرونز نے بغیر کسی بڑے دفاعی نظام کے نشانے کو ہٹ کیا اور روس کے ایئر ڈیفنس کو ناکام کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں،15 دہشتگرد ہلاک،بھاری اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا، آئی ایس پی آر
نقصان کا تخمینہ
یوکرینی صدر زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ روس کے سٹریٹجک بمبار بیڑے کا ایک تہائی حصہ اس کارروائی میں ناکارہ ہو چکا ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق نقصان کا تخمینہ سات ارب ڈالر سے زائد ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ ہائی کورٹ نے ہیروئن بیچتے پکڑی جانے والی 14سالہ لڑکی کے والدین کی فوری گرفتاری کا حکم دیدیا
عالمی تجزیہ
ماہرین کے مطابق یہ حملہ نہ صرف روس کی فوجی صلاحیت پر کاری ضرب ہے بلکہ اس کی جوہری طاقت کی علامت سمجھے جانے والے سٹریٹجک فضائی بیڑے کو بھی چیلنج کرتا ہے۔ البتہ اس حملے سے زمینی جنگ پر فوری اثر نہیں پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں: افسران کو بچانے اور جان چھڑوانا۔۔۔ریلوے افسران کے بیانات لیے بغیر ٹرین حادثہ انکوائری رپورٹ وزارت ریلوے اور وزیراعظم کو ارسال
جوابی کارروائیاں
ماہرین کا ماننا ہے کہ روس اس کارروائی کا بدلہ لینے کے لیے یوکرین پر شدید میزائل حملے کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے جدید ہائپر سونک ہتھیاروں سے جو پہلے بھی یوکرین کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا چکے ہیں۔
غیرروایتی وار کی مثال
یہ حملہ یوکرین کی جانب سے روسی فوجی انفراسٹرکچر پر ایک اور غیرروایتی لیکن مؤثر وار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جیسا کہ 2023 میں یوکرین نے روسی بحریہ پر کامیاب حملے کر کے اسے کریمیا سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔








