بھارت سے پانی، تجارت اور انسداد دہشت گردی پر سنجیدہ مذاکرات چاہتے ہیں، وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف کا ایران کا دورہ
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے بھارتی کشیدگی کے دوران پاکستان کی حمایت کرنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا اور ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی حمایت کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: میزان بیورجز کو پیسی کی انرجی ڈرنک ’سٹنگ‘ کا ڈیزائن کاپی کرنا بہت مہنگا پڑ گیا
تاریخی تعلقات کی کاوشیں
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق، وزیراعظم نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ تہران میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ایران کو وہ اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اس دورے کو دل کی مسرت کا موقع سمجھا اور پاکستان اور ایران کے دیرینہ ثقافتی اور تاریخی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کی تاریخ میں پہلی بار یوکرین نے ڈرون سے روس کا جدید ترین لڑاکا طیارہ مار گرایا
تعمیری بات چیت
وزیراعظم نے بتایا کہ ایرانی صدر کے ساتھ تعمیری گفتگو ہوئی، جس میں ایرانی صدر نے جنوبی ایشیا میں کشیدگی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایرانی سفیر کا بھی شکریہ ادا کیا جو مسلسل رابطے میں رہے۔
یہ بھی پڑھیں: حمزہ شہباز کا رمضان شوگر مل ریفرنس میں عدالت پیش نہ ہونے کا فیصلہ
پاکستان کا موقف
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے اس تنازع میں تحمل کا مظاہرہ کیا، اور ہماری مسلح افواج نے قوم کی حمایت کے ساتھ بھرپور جواب دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن کا خواہش مند ہے اور مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتے ہیں، خاص طور پر مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر۔
یہ بھی پڑھیں: پی جے ایف کا اپنے دو ممبران کی صحت یابی پر عشائیہ کا اہتمام، آفتاب احمد کھوکھر کی بھی اہلیہ سمیت شرکت
خطے میں امن کی تلاش
وزیراعظم نے بھارت کے ساتھ پانی، تجارت اور انسداد دہشت گردی کے معاملات پر سنجیدہ بات چیت کی اہمیت پر زور دیا اور متنبہ کیا کہ اگر بھارت دوبارہ جارحیت کرتا ہے تو پاکستان بھرپور دفاع کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 100 انڈیکس ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر
غزہ کے لوگوں کی حمایت
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان غزہ کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے، جہاں اسرائیلی بربریت کے نتیجے میں 54 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے درخواست کی کہ غزہ میں جنگ بندی کا کردار ادا کرے۔
یہ بھی پڑھیں: وکلاء کے وفود ملنے آتے، انسان کسی عہدے یا دولت سے نہیں کردار سے بڑا بنتا ہے،”ہار کی”خفت“ دھاندلی کا نام لے کر نیا انتشار جنم دیتی ہے۔
ایران کی حمایت کا عزم
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایران کے بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ہم ایران کے پُرامن نیوکلیئر پروگرام کی حمایت کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی میڈیا میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا معاملہ، آئی سی سی ورلڈ کپ کے اشتہارات کے نام پر ایک ارب روپے کے مشتبہ خفیہ فنڈز کی ٹرانسفر کا دعویٰ سامنے آگیا
ایرانی صدر کا پیغام
ایرانی صدر نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات دیرینہ ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایک 10 اپریل 1986ء میں آئی تھی جب دخترِ مشرق کے استقبال کیلئے عوام آئے، ایک 10 اپریل 2022ء میں آئی جب عوام ازخود سڑکوں پر نکلے۔
مظالم کی مذمت
انہوں نے فلسطین میں ہونے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ایران اور پاکستان او آئی سی کے رکن ممالک ہیں، جو مل کر غزہ کے مظالم کی مذمت کرتے ہیں۔
مغربی ممالک کی تنقید
ایرانی صدر نے مغربی ممالک کی خاموشی کی مذمت کی اور کہا کہ وہ اس صورت حال سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ آخر میں، انہوں نے وزیراعظم اور پاکستانی وفد کا دورہ کرنے پر شکریہ ادا کیا۔








