بھارت سے پانی، تجارت اور انسداد دہشت گردی پر سنجیدہ مذاکرات چاہتے ہیں، وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف کا ایران کا دورہ
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے بھارتی کشیدگی کے دوران پاکستان کی حمایت کرنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا اور ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی حمایت کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: دفاع وطن کے لئے میجر طفیل محمد کی شہادت تاریخ کا روشن باب ہے: وزیر اعلیٰ مریم نواز
تاریخی تعلقات کی کاوشیں
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق، وزیراعظم نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ تہران میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ایران کو وہ اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اس دورے کو دل کی مسرت کا موقع سمجھا اور پاکستان اور ایران کے دیرینہ ثقافتی اور تاریخی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں جعلی پیر کی ساتھی کے ساتھ ملکر ذہنی مریض لڑکی سے اجتماعی زیادتی
تعمیری بات چیت
وزیراعظم نے بتایا کہ ایرانی صدر کے ساتھ تعمیری گفتگو ہوئی، جس میں ایرانی صدر نے جنوبی ایشیا میں کشیدگی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایرانی سفیر کا بھی شکریہ ادا کیا جو مسلسل رابطے میں رہے۔
یہ بھی پڑھیں: کمیل عزیز خان نے اپنی زندگی کے سب سے بڑے خوف سے پردہ اٹھادیا
پاکستان کا موقف
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے اس تنازع میں تحمل کا مظاہرہ کیا، اور ہماری مسلح افواج نے قوم کی حمایت کے ساتھ بھرپور جواب دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن کا خواہش مند ہے اور مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتے ہیں، خاص طور پر مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر۔
یہ بھی پڑھیں: علیمہ خانم بانی کی بہن ہیں، ان کو سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہیے: سہیل آفریدی
خطے میں امن کی تلاش
وزیراعظم نے بھارت کے ساتھ پانی، تجارت اور انسداد دہشت گردی کے معاملات پر سنجیدہ بات چیت کی اہمیت پر زور دیا اور متنبہ کیا کہ اگر بھارت دوبارہ جارحیت کرتا ہے تو پاکستان بھرپور دفاع کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی نائب صدر جے ڈی وانس بھارت کا دورہ کریں گے، کیامصروفیات ہوں گی ؟ اہم تفصیلات جانیے
غزہ کے لوگوں کی حمایت
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان غزہ کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے، جہاں اسرائیلی بربریت کے نتیجے میں 54 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے درخواست کی کہ غزہ میں جنگ بندی کا کردار ادا کرے۔
یہ بھی پڑھیں: عرب کہاں ہیں؟ فلسطین کے مسلم ہمسائے ماضی کی طرح اس کی حمایت کیوں نہیں کر رہے؟
ایران کی حمایت کا عزم
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایران کے بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ہم ایران کے پُرامن نیوکلیئر پروگرام کی حمایت کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سرگودھا، باپ نے تین سالہ بیٹی سمیت نہر میں چھلانگ لگا دی
ایرانی صدر کا پیغام
ایرانی صدر نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات دیرینہ ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: فضل الرحمان کی جیل میں عمران خان سے ملاقات ہوگی یا نہیں؟ جے یو آئی کا بیان سامنے آگیا
مظالم کی مذمت
انہوں نے فلسطین میں ہونے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ایران اور پاکستان او آئی سی کے رکن ممالک ہیں، جو مل کر غزہ کے مظالم کی مذمت کرتے ہیں۔
مغربی ممالک کی تنقید
ایرانی صدر نے مغربی ممالک کی خاموشی کی مذمت کی اور کہا کہ وہ اس صورت حال سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ آخر میں، انہوں نے وزیراعظم اور پاکستانی وفد کا دورہ کرنے پر شکریہ ادا کیا۔








