بھارت سے پانی، تجارت اور انسداد دہشت گردی پر سنجیدہ مذاکرات چاہتے ہیں، وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف کا ایران کا دورہ
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے بھارتی کشیدگی کے دوران پاکستان کی حمایت کرنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا اور ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی حمایت کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز سے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی ملاقات
تاریخی تعلقات کی کاوشیں
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق، وزیراعظم نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ تہران میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ایران کو وہ اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اس دورے کو دل کی مسرت کا موقع سمجھا اور پاکستان اور ایران کے دیرینہ ثقافتی اور تاریخی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ذیابیطس کے لیے استعمال ہونے والا وہ انجیکشن جس نے جگر کی انتہائی خطرناک بیماری کا علاج کردیا
تعمیری بات چیت
وزیراعظم نے بتایا کہ ایرانی صدر کے ساتھ تعمیری گفتگو ہوئی، جس میں ایرانی صدر نے جنوبی ایشیا میں کشیدگی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایرانی سفیر کا بھی شکریہ ادا کیا جو مسلسل رابطے میں رہے۔
یہ بھی پڑھیں: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی برسلز میں جمہوریہ قبرص کے وزیر خارجہ سے ملاقات
پاکستان کا موقف
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے اس تنازع میں تحمل کا مظاہرہ کیا، اور ہماری مسلح افواج نے قوم کی حمایت کے ساتھ بھرپور جواب دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن کا خواہش مند ہے اور مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتے ہیں، خاص طور پر مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر۔
یہ بھی پڑھیں: افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کا مسائل کے حل کے سلسلے میں اہم بیان سامنے آ گیا
خطے میں امن کی تلاش
وزیراعظم نے بھارت کے ساتھ پانی، تجارت اور انسداد دہشت گردی کے معاملات پر سنجیدہ بات چیت کی اہمیت پر زور دیا اور متنبہ کیا کہ اگر بھارت دوبارہ جارحیت کرتا ہے تو پاکستان بھرپور دفاع کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سوات میں وقفے وقفے سے تیز بارش، اب تک کتنے افراد دریا کی لہروں کی نذر ہو چکے ہیں۔ افسوسناک تفصیلات جانیے۔
غزہ کے لوگوں کی حمایت
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان غزہ کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے، جہاں اسرائیلی بربریت کے نتیجے میں 54 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے درخواست کی کہ غزہ میں جنگ بندی کا کردار ادا کرے۔
یہ بھی پڑھیں: گوتم اڈانی پر امریکہ میں رشوت کے الزامات: بھارت کے لیے ایک بڑا چیلنج
ایران کی حمایت کا عزم
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایران کے بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ہم ایران کے پُرامن نیوکلیئر پروگرام کی حمایت کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سموگ سے نمٹنے کے اقدامات: لاہور ہائیکورٹ کا کینال روڈ سے درخت نہ کاٹنے کا حکم
ایرانی صدر کا پیغام
ایرانی صدر نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات دیرینہ ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پرتگال: بچوں پر سوشل میڈیا پابندی کا بِل منظور
مظالم کی مذمت
انہوں نے فلسطین میں ہونے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ایران اور پاکستان او آئی سی کے رکن ممالک ہیں، جو مل کر غزہ کے مظالم کی مذمت کرتے ہیں۔
مغربی ممالک کی تنقید
ایرانی صدر نے مغربی ممالک کی خاموشی کی مذمت کی اور کہا کہ وہ اس صورت حال سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ آخر میں، انہوں نے وزیراعظم اور پاکستانی وفد کا دورہ کرنے پر شکریہ ادا کیا۔








