بھارت سے پانی، تجارت اور انسداد دہشت گردی پر سنجیدہ مذاکرات چاہتے ہیں، وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف کا ایران کا دورہ
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے بھارتی کشیدگی کے دوران پاکستان کی حمایت کرنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا اور ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی حمایت کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: درجنوں ڈینگی کیسز پنجاب میں رپورٹ ہوئے
تاریخی تعلقات کی کاوشیں
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق، وزیراعظم نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ تہران میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ایران کو وہ اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اس دورے کو دل کی مسرت کا موقع سمجھا اور پاکستان اور ایران کے دیرینہ ثقافتی اور تاریخی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ سے قبل ہی فری لانسرز، وی لاگرز اور یوٹیوبرز کے لیے پریشان کن خبر آ گئی
تعمیری بات چیت
وزیراعظم نے بتایا کہ ایرانی صدر کے ساتھ تعمیری گفتگو ہوئی، جس میں ایرانی صدر نے جنوبی ایشیا میں کشیدگی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایرانی سفیر کا بھی شکریہ ادا کیا جو مسلسل رابطے میں رہے۔
یہ بھی پڑھیں: جامعۂ پنجاب کا 135ویں سالانہ کانووکیشن، الیزے شبیر خان کے لیے تین گولڈ میڈلز کا اعزاز
پاکستان کا موقف
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے اس تنازع میں تحمل کا مظاہرہ کیا، اور ہماری مسلح افواج نے قوم کی حمایت کے ساتھ بھرپور جواب دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان امن کا خواہش مند ہے اور مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتے ہیں، خاص طور پر مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ کے بجٹ میں تنخواہوں میں 12 اور پنشن میں 8 فیصد اضافے کا اعلان
خطے میں امن کی تلاش
وزیراعظم نے بھارت کے ساتھ پانی، تجارت اور انسداد دہشت گردی کے معاملات پر سنجیدہ بات چیت کی اہمیت پر زور دیا اور متنبہ کیا کہ اگر بھارت دوبارہ جارحیت کرتا ہے تو پاکستان بھرپور دفاع کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان کی ثالثی، چین کی جانب سے مکمل حمایت اور تعاون کا اعلان
غزہ کے لوگوں کی حمایت
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان غزہ کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہے، جہاں اسرائیلی بربریت کے نتیجے میں 54 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے درخواست کی کہ غزہ میں جنگ بندی کا کردار ادا کرے۔
یہ بھی پڑھیں: پکپتن سے آگے لائن: زرخیز اور مشہور علاقے، انگریزوں کا فیصل آباد میں بڑا اسٹیشن
ایران کی حمایت کا عزم
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایران کے بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ہم ایران کے پُرامن نیوکلیئر پروگرام کی حمایت کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بدھ مت کے بھکشوؤں پر مشتمل بین الاقوامی وفد کا لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد کا تفصیلی دورہ
ایرانی صدر کا پیغام
ایرانی صدر نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات دیرینہ ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈولفن پولیس نے اے ٹی ایم کامین لاک کھولنے کی کوشش کرنے والے ملزم کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا
مظالم کی مذمت
انہوں نے فلسطین میں ہونے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ایران اور پاکستان او آئی سی کے رکن ممالک ہیں، جو مل کر غزہ کے مظالم کی مذمت کرتے ہیں۔
مغربی ممالک کی تنقید
ایرانی صدر نے مغربی ممالک کی خاموشی کی مذمت کی اور کہا کہ وہ اس صورت حال سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ آخر میں، انہوں نے وزیراعظم اور پاکستانی وفد کا دورہ کرنے پر شکریہ ادا کیا۔








