غزہ میں مستقل جنگ بندی کی قرارداد ویٹو ہونے پر پاکستان کا ردعمل بھی سامنے آ گیا
پاکستان کا غزہ میں جنگ بندی قرارداد کے ویٹو پر ردعمل
نیویارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان نے کہا کہ غزہ میں مستقل جنگ بندی کی قرارداد کے ویٹو ہونے سے بہت خطرناک پیغام جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بھر میں ربیع الثانی کا چاند نظر نہیں آیا، لہذا یکم ربیع الثانی 25 ستمبر بروز جمعرات کو ہو گی۔
غزہ کی موجودہ صورتحال
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سلامتی کونسل اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ زمین پر غزہ کا حال جہنم سے زیادہ برا ہے۔ غزہ میں 54 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، یہ انسانی ایشو نہیں بلکہ انسانیت کی تباہی ہے۔ غزہ کے حالات بد سے بدتر ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: این اے 129 ضمنی الیکشن، مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کی افواہوں پر حماد اظہر کی طرف سے وضاحت آگئی
اسرائیل کی خلاف ورزیاں
عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ اسرائیل مسلسل عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ اسرائیل فلسطینیوں کو ان کی ہی زمین سے بے دخل کرنے کے درپے ہے۔ پاکستان فلسطینی عوام کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی میں نئے سال کے آغاز پر تقریباً 58 ارب 80 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد کی پراپرٹیز فروخت
خوراک کی فراہمی اور جنگ بندی
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں خوراک کی فراہمی کے لیے پاکستان ہمیشہ آواز اٹھاتا رہے گا۔ سکیورٹی کونسل کی جانب سے جنگ بندی میں ناکامی تاریخ میں یاد رکھی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: مزدور کی کم از کم تنخواہ 40 ہزار روپے ماہانہ مقرر کرنے کی سفارش
امریکی ویٹو اور عالمی ردعمل
واضح رہے کہ امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں مستقل جنگ بندی اور امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کی قرارداد ویٹو کر دی ہے۔ سکیورٹی کونسل کے 15 میں سے 14 ارکان نے غزہ جنگ بندی کے مطالبے کے حق میں ووٹ دیا، قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والوں میں پاکستان بھی شامل تھا۔
پاکستان کی تشویش
عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان کو غزہ جنگ بندی کی قرارداد ویٹو ہونے پر افسوس ہے۔ جنگ بندی کی قرارداد کا مسترد ہونا عالمی انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ہم غزہ میں مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتے ہیں۔








