حکومت کا نیٹ میٹرنگ قوانین میں تبدیلی کا فیصلہ
نیٹ میٹرنگ ریگولیشز میں تبدیلی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی حکومت نے نیٹ میٹرنگ ریگولیشز کے حوالے سے کوئی بھی تبدیلی اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کے ججز کے الاؤنس میں اضافہ: پاکستان میں ججوں کو تنخواہ کے علاوہ کن مراعات کا حصول ہوتا ہے؟
اہم اجلاس کا انعقاد
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن اویس لغاری کی صدارت میں اہم اجلاس ہوا جس میں نیٹ میٹرنگ ریگولیشز کے حوالے سے غور کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا دورہ سعودی عرب : دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کے معاہدے پر دستخط
اجلاس کی تفصیلات
رپورٹ کے مطابق سولر ایسوسی ایشن، صوبائی حکومتوں کے نمائندے اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی، اجلاس میں اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے دی گئی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام حملہ، بھارتی آرمی چیف کا سری نگر کا دورہ، بھارتی فوج نے مزید 5 کشمیریوں کے مکانات مسمار کر دیئے
مشاورت کا فیصلہ
اجلاس میں ریگولیشز کے حوالے سے کوئی بھی تبدیلی اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈا پور کے کالا باغ ڈیم سے متعلق بیان پر عظمیٰ بخاری کا جواب بھی آ گیا
وزیر صاحب کا بیان
وفاقی وزیر اویس لغاری نے کہا کہ حکومت کسی بھی کاروبار کو نقصان نہیں پہنچائے گی، ریگولیشز میں کوئی بھی تبدیلی صارفین کے تحفظ کو مدنظر رکھ کر کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیک ہولڈرز قومی گرڈ کے تحفظ کے حوالے سے اقدامات کو مدنظر رکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن نے بیرسٹر گوہر کو چیئرمین تحریک انصاف تسلیم کرنے سے انکار کر دیا
مستقبل کے منصوبے
وفاقی وزیر برائے توانائی نے کہا کہ حکومت نے 9000 میگاواٹ کے مہنگے اور غیر ضروری منصوبوں کو ختم کیا جو بجلی کے نظام پر بوجھ بن رہے تھے۔
نیٹ میٹرنگ کا مستقبل
اویس لغاری کا کہنا تھا کہ 20178 میں انہوں نے خود نیٹ میٹرنگ کو متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا اور اس وقت یہ نظام ابتدائی مرحلے میں تھا، اب جبکہ نیٹ میٹرنگ کا دائرہ وسیع ہو چکا ہے، اس کے گرڈ پر سنجیدہ اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جن کا بروقت تدارک ضروری ہے。








