عمران خان زخمی ٹانگ کے باوجود عاصم منیر کی بطور آرمی چیف تقرری روکنے کے لئے اسلام آباد پہنچ گئے تھے، عرفان صدیقی
اسلام آباد میں سینیٹر عرفان صدیقی کا بیان
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر راہنما اور سینیٹ میں پارلیمانی پارٹی لیڈر سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ عمران خان زخمی ٹانگ کے باوجود سید عاصم منیر کی بطور آرمی چیف تقرری راستہ روکنے کے لئے لانگ مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچ گئے تھے لیکن عوام نے ان کا ساتھ نہیں دیا تھا، پی۔ٹی۔آئی اپنی طاقت گنوا چکی، کوئی تحریک نہیں چلا سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: پاک افغان تجارت عارضی طور پر معطل، ٹرانزٹ کھیپوں کی 495 گاڑیاں طورخم اور چمن پر سرحد پار کرنے کی منتظر
عمران خان کی اپوزیشن کے ساتھ روایات
نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ عمران خان جو کچھ اپوزیشن کے ساتھ کرتے رہے، موجودہ حکومت نے پی ٹی آئی کے ساتھ ہرگز ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے کسی کو ہیروئن کے جھوٹے مقدمے میں بند کر دیا تو کسی کو ایفی ڈرین میں، کسی کو غداری میں، کسی کو کرایہ داری میں۔ ہم ایسا کچھ نہیں کر رہے۔
یہ بھی پڑھیں: معروف اداکارہ حرا مانی نے فیشن برانڈ متعارف کرا دیا
عمران خان کی مقبولیت کا زوال
ایک سوال کے جواب میں مسلم لیگی راہنما نے کہا کہ جب خان صاحب جیل سے باہر تھے اور اُن کی مقبولیت بھی عروج پر تھی اور وہ خود احتجاجی جلوسوں کی قیادت کر رہے تھے، تب کون سا معرکہ سر کر لیا تھا جو اب وہ جیل کے اندر سے قیادت کرتے ہوئے سر انجام دے لیں گے؟
یہ بھی پڑھیں: آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال کا اعلان کردیا
پی ٹی آئی کا اقتدار میں آنے کا طریقہ
سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اقتدار میں آنے کے لئے نہ سیاسی جدو جہد کی اور نہ ہی ماریں کھائیں۔ وہ عسکری گھوڑوں پر بیٹھ کر آئے اور اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہو گئے۔ اُس کی پرورش ’’لاڈ پیار‘‘ میں ہوئی جس کی وجہ سے خان کو ’’لاڈلا‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پیوٹن نے تیل اور گیس کی فراہمی کے حوالے سے یورپ کو تعاون کی پیشکش کر دی
عدالت میں سلوک اور عوامی ردعمل
وہ اشتہاری ہونے کے باوجود سپریم کورٹ میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھتے تھے اور کسی کی مجال نہیں تھی کہ اُنہیں پکڑے۔ وہ بطور ملزم عدالت کے سامنے پیش کئے جاتے تھے تو ’’گڈ ٹو سی یو‘‘ کہہ کر ان کا استقبال کیا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: رہنما جماعت اسلامی قیصر شریف نے لاہور ڈویژن میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر کمشنر لاہور مریم خان کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے
عمران خان کی پریشانی اور مایوسی
اسی لئے اُن کی پریشانی اور مایوسی آخری حدوں کو چھونے لگی ہے۔ پہلے وہ فوج کے اعلیٰ عہدیداروں کو میر جعفر اور میر صادق کہتے تھے، اب وہ فرعون اور یزید کہہ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اگر کوئی تشدد کرے تو وہ حالات کا ذمہ دار ہوگا، ہم ہر صورت ڈی چوک پہنچیں گے: علی امین گنڈاپور
تحریک چلانے کی ناکامی
سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ پی۔ٹی۔آئی اپنی طاقت گنوا چکی ہے۔ انہوں نے 9، مئی کے بعد اپنے لئے مشکلات کا جو انبار جمع کر رکھا ہے، اُس میں مزید اضافے کے سوا انہیں کچھ نہیں ملے گا۔
نوجوانوں کی ذمہ داری
خان صاحب کہتے ہیں کہ میں جیل میں ہوں تو نوجوان بھی اٹھیں اور جیلوں میں آئیں۔ آپ نے تو کچھ کیا ہے تو جیل میں ہیں۔ پاکستان کے نوجوان اپنے مستقبل کو دائو پر لگا کر آپ کے گناہوں کی سزا بھگتنے کیوں جیلوں میں جائیں؟








