ٹرمپ انتظامیہ نے عالمی فوجداری عدالت کی 4 خواتین ججز پر پابندیاں عائد کر دیں
امریکا کی جانب سے پابندیاں
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکا نے عالمی فوجداری عدالت کی 4 خاتون ججز پر پابندیاں عائد کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوبرز کیلئے بڑی خوشخبری، انتہائی اہم فیچر متعارف
پابندیوں کی وجوہات
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کو ٹرمپ انتظامیہ نے عالمی فوجداری عدالت کی 4 ججز پر پابندیاں عائد کیں۔ یہ پابندیاں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے ردعمل میں لگائی گئی ہیں۔
رپورٹ میں ذکر کیا گیا کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کے مبینہ جنگی جرائم کا مقدمہ کھولنے کا فیصلہ بھی ان ججز کے خلاف پابندیوں کی ایک اہم وجہ بنا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کے درمیان ریلوے معاہدہ طے پا گیا
پابندیوں کی تفصیلات
امریکا کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کرنے والی ججز میں دو اہم شخصیات شامل ہیں: بیٹی ہوہلر، جو سلووینیا سے تعلق رکھتی ہیں، اور رینی الاپینی، جن کا تعلق بینن سے ہے۔ یہ دونوں ججز ان عدالتی کارروائیوں میں شامل تھیں جن کے نتیجے میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے۔
باقی ججز کی شناخت
اس کے علاوہ، دیگر دو ججز لوز ڈیل کارمین (پیرو) اور سولومی بالنگی بوسا (یوگنڈا) بھی شامل ہیں۔ ان ججوں نے ان عدالتی کارروائیوں میں حصہ لیا تھا جن کے تحت امریکا کے خلاف افغانستان کی جنگ کے دوران جنگی جرائم کی تحقیقات کی منظوری دی گئی تھی۔ یہ دونوں ججز اسرائیل سے متعلق مقدمات میں بھی شریک رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردار تنویر الیاس پیپلزپارٹی میں شامل ہوگئے
پابندیوں کے اثرات
رپورٹ کے مطابق، ان ججز پر عائد پابندیوں کے تحت انہیں امریکا میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ان کے امریکا میں موجود تمام اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی فورسز کا انسانی ہمدردی مشن پر وار، امدادی کشتی حنظلہ پر قبضہ
عالمی فوجداری عدالت کا ردعمل
عالمی فوجداری عدالت کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ججوں اور عدالتی عملے کے ساتھ کھڑی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت، مبینہ کرپشن کے الزام میں چار کرکٹر معطل، رپورٹ درج
امریکہ کے وزیرخارجہ کی رائے
دوسری جانب، امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے عالمی فوجداری عدالت کو سیاست زدہ قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی فوجداری عدالت کے چاروں جج غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث رہی ہیں اور انہوں نے امریکا اور ہمارے اتحادی اسرائیل کو غیرقانونی طور پر نشانہ بنایا ہے۔
تنقید کا سامنا
امریکا کے اس اقدام کو انسانی حقوق کے کارکنوں اور عالمی قانون کے ماہرین کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔








