کیا آسٹریلوی گائے کی قربانی جائز ہے؟
آسٹریلوی گائے کی قربانی کا جائزہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) کیا آسٹریلوی گائے کی قربانی جائز ہے؟ اس بارے میں یہ افواہ بھی ہے کہ اس کو حرام جانور کے مادّہ منویہ سے حاملہ کرایا جاتا ہے تاکہ اس سے دودھ کی زیادہ مقدار حاصل ہو۔ ایسی گائیوں کا شرعی حکم کیا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: سفارت خانہ پاکستان ابو ظہبی میں پاکستان اور سری لنکا کے سفیروں کی ملاقات
جائز قربانی کی فقہی رائے
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق، آسٹریلوی گائے کی قربانی جائز ہے۔ فقہی رائے کا مدار افواہوں یا سنی سنائی باتوں پر نہیں ہوتا، بلکہ اس کا انحصار صرف ان باتوں پر ہوتا ہے جو قطعی ثبوت یا مشاہدے سے ثابت ہوں۔ اس لیے مُسلّمہ اصول ہے: "یقین شک سے زائل نہیں ہوتا۔"
یہ بھی پڑھیں: ایجی ٹیشن کی سیاست کا کبھی قائل نہ تھا، قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حمایت اور مخالفت کی جانی چاہیے، اور وہ ہاتھا پائی پر آگئے۔
گائے کی حلالیت کے بارے میں وضاحت
اگر یہ بات درست بھی ہو، تب بھی یہ گائیں حلال ہیں۔ ان کا گوشت کھانا اور دودھ پینا جائز ہے، کیونکہ جانور کی نسل کا مدار ماں (یعنی مادہ) پر ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رجب بٹ کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش؟ تفصیلات سامنے آگئیں۔
علامہ برہان الدین المرغینانی کی وضاحت
علامہ برہان الدین المرغینانی حنفی لکھتے ہیں: "پالتو (Pet) اور جنگلی (Wild) جانور کے ملاپ سے پیدا ہونے والا بچہ ماں (مادہ) کے تابع ہوتا ہے... یہاں تک کہ اگر بھیڑیے نے بکری پر جفتی کی، تو اس ملاپ سے جو بچہ پیدا ہوگا، اس کی قربانی جائز ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: انسداد دہشتگردی فورس کی خضدار میں کارروائی: 4 دہشتگرد ہلاک
علامہ محمد بن محمود کی تشریح
علامہ محمد بن محمود "عنایہ شرحِ ہدایہ" میں لکھتے ہیں: "کیونکہ بچہ ماں کاجزء ہوتا ہے اور اسی لیے آزاد یا غلام ہونے میں ماں کے تابع ہوتا ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: کرکٹ ٹیم کے پاکستان نہ آنے سے متعلق بھارتی میڈیا کا دعویٰ، خواجہ آصف کا سخت ردعمل
قربانی کے اصول
علامہ علاؤالدین کاسانی حنفی لکھتے ہیں: "قربانی پالتو جانوروں کی تین جنسوں میں سے کسی ایک جنس سے ہوسکتی ہے، یعنی بکری، اونٹ اور گائے، بیل۔ اس میں ہر نوع کا نَر اور مادہ، خصی اور آنڈو سب شامل ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں خاتون کو قابل اعتراض ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کرنے کے الزام میں ملزم گرفتار
مخلوط نسل کے جانوروں کی قربانی
اگر جانور وحشی اور پالتو کے ملاپ سے پیدا ہو تو اعتبار ماں یعنی مادہ کا ہے۔ اگر ماں پالتو ہے تو قربانی جائز ہے، ورنہ نہیں۔ اگر پالتو گائے پر وحشی بیل جفتی کرے تو اس سے پیدا ہونے والے بچے کی قربانی جائز ہے، لیکن اس کے برعکس نہیں۔
انسانوں کی حیثیت اور اقدار
آج کل مغرب میں انسانوں کو بھی اسی حیوانی درجے میں پہنچا دیا گیا ہے۔ اسی لیے پاسپورٹ، تعلیمی اَسناد اور دیگر دستاویزات میں باپ کے بجائے ماں کا نام پوچھا جاتا ہے، کیونکہ بہت سے لوگوں کو اپنے باپ کا پتہ نہیں ہوتا۔ جبکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق، انسانوں میں نسب باپ کی طرف سے چلتا ہے۔








