ٹرمپ سے تنازعہ، ایلون مسک کے والد میدان میں آگئے، بیٹے کی غلطی کی نشاندہی کردی
ایلون مسک کے والد کا ٹرمپ اور ایلون کے تنازع پر تبصرہ
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایل Elon Musk کے والد ایرول مسک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اپنے بیٹے کے درمیان جاری تنازع کو محض "الفا مردوں کا ٹکراؤ" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنازع چند دنوں میں ختم ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کا پہلگام فالس فلیگ میں ناکامی کے بعد بلوچستان میں بڑی دہشت گردی کا منصوبہ بے نقاب
ایرول مسک کی رائے
دہلی ایئرپورٹ کے لاؤنج سے العربیہ انگلش سے گفتگو میں انہوں نے اس سوشل میڈیا جھڑپ کو "تھوڑا سا احمقانہ" قرار دیا اور کہا کہ طاقت کے بلند ترین درجوں پر موجود افراد بھی دباؤ اور تھکن کے باعث اس قسم کے ردعمل کا شکار ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی ٹیسٹ کے لئے انگلش ٹیم کا اعلان، تین سپنرز شامل
ذہنی دباؤ اور ردعمل
ایرول مسک نے کہا "جب لوگ بہت زیادہ ذہنی دباؤ سے گزرتے ہیں تو آخرکار ایک مرحلہ آتا ہے جہاں وہ پھٹ پڑتے ہیں۔" ان کے مطابق اقتدار کے اعلیٰ ترین طبقات میں بھی لوگوں کو باہمی ہم آہنگی پیدا کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تاریخ میں پہلی بار سعودی عرب کے صحرا میں برفباری
تنازع کا محرک
ایرول نے تسلیم کیا کہ ایلون اس بات پر فکرمند ہیں کہ ڈیموکریٹ جماعت مالی مراعات کو استعمال کرکے قانون سازی پر اثرانداز ہو رہی ہے، اور یہی نکتہ اس تنازع کا محرک بنا۔ تاہم ان کا ماننا ہے کہ ایلون اور ٹرمپ کے درمیان کشیدگی عارضی ہے اور جلد ختم ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی بھارتی حملے کی شدید مذمت، پنجاب میں ایمرجنسی نافذ
ایلون کو پیغام
انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے ایلون کو پیغام بھیجا ہے کہ "یہ معاملہ ختم کر دو۔"
یہ بھی پڑھیں: سلنڈر حادثے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں: محسن نقوی
جیفری ایپسٹین کے حوالے سے تبصرہ
جہاں تک ایلون کی طرف سے جیفری ایپسٹین کی فائلز کا حوالہ دے کر ٹرمپ پر حملہ کرنے کی بات ہے، تو ایرول مسک خود بھی حیران دکھائی دیے۔ انہوں نے کہا "مجھے معلوم نہیں وہ کیا سوچ رہا تھا، میرا خیال ہے کہ یہ ایک احمقانہ غلطی تھی۔" انہوں نے اسے حکمتِ عملی کے بجائے ذہنی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان اسمبلی کے اقلیتی رکن ایس ایم پیٹرک انتقال کرگئے
آپس میں ٹکراؤ
ایرول مسک کا کہنا تھا کہ کوئی بھی مکمل معصوم نہیں، یہ جھگڑا "ہاتھیوں یا الفا مردوں کا آپس میں ٹکراؤ" ہے۔
امریکہ کا دورہ اور عوامی حمایت
ایرول مسک نے حال ہی میں امریکہ کا تین ہفتے کا دورہ مکمل کیا ہے، اور ان کے مطابق وہاں عوامی حمایت مکمل طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا، "میں کہنا چاہوں گا کہ 80 فیصد لوگ ٹرمپ کے ساتھ ہیں، لیکن حقیقت میں تو 100 فیصد حمایت ہے۔"








