چوبرجی کے مقام پر انجن کے باقاعدہ استقبال کی محفل سجائی گئی، جشن کا اہتمام کیا گیا، شہر کے سب انگریز، دیسی افسراور معززین شہر تقریب میں پہنچ گئے
مصنف کا تعارف
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 149
یہ بھی پڑھیں: گلوکارہ حمیرا ارشد کی پاکستان آئیڈل کے ججز پر شدید تنقید، کہا ججز بننے والوں کو شرم آنی چاہئے
پہلا اسٹیم انجن لاہور میں
اور وہ آگیا! لاہور کا پہلا انجن۔四وں طرف سے زمینی راستوں کو بند پا کر، اس مسئلے کا حل کچھ یوں نکالا گیا کہ لاہور اسٹیشن پر پہنچنے والے اس علاقے کے لیے منگوائے گئے پہلے اسٹیم انجن کو کراچی کی بندر گاہ پر اْتار کر اسے مال گاڑی کے ذریعے کوٹری تک لایا گیا۔ جہاں سے اسے انڈس فلوٹیلا اسٹیم کمپنی کے بحری سٹیمر پر لاد دیا گیا۔ سٹیمر نے دریائے سندھ میں اپنا روایتی سفر جاری رکھتے جنوبی پنجاب کے مقام کوٹ مٹھن کے قریب پہنچنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: حمیرا اصغر کی موت 7 اکتوبر کو ہوئی اور وہ مالی بحران کا شکارتھیں: تحقیقات میں انکشاف
سفر کی تفصیلات
یہاں سے دریائے سندھ کا راستہ چھوڑ کر سٹیمر کو پنجنند کی طرف مڑ جانا تھا اور کچھ آگے دریائے راوی میں داخل ہو کر اپنا سفر مکمل کرکے لاہور شہر کی بندر گاہ پر پہنچنا تھا۔ یہ ان کا جانا پہچانا راستہ تھا اور ان کے لیے کچھ بھی نیا نہ تھا، سوائے اس کے کہ اب کی بار ان کے اسٹیمر میں معمول کے مسافروں اور سامان کے ہمراہ ایک نیا اور بھاری بھر کم لش لش کرتا ہوا بھاپ کا سیاہ انجن بھی یہ سفر کر رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پروٹوکول عوام کو عزتِ نفس سے محروم کرنے کی سازش ہے، وی آئی پی کلچر بہت سی برائیوں کی جڑ ہے، قومی وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اسی کی وجہ سے ہے۔
سفر کی دشواری
یہ ایک بہت ہی طویل اور تھکا دینے والا سفر تھا۔ ایک اندازے کے مطابق اس جناتی مشین کو کراچی سے لاہور پہنچانے میں کم از کم 2 مہینے تو ضرور لگ ہی گئے ہوں گے۔ اور اب یہ مختلف دریاؤں میں سفر کرتا ہوا بالآخر لاہور کی بندر گاہ میں داخل ہو گیا تھا، جہاں اسے متعلقہ محکمے نے وصول کر کے اسٹیمر سے اتارنے کے انتظامات کیے ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلوی بیٹر میتھیو ویڈ نے بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا
استقبال کی تیاریاں
یہ مارچ 1862ء کے موسم بہار کا ایک خوبصورت دن تھا جب پھولوں اور باغات کے شہر لاہور کے لیے محکمہ ریلوے کا دیا ہوا یہ عظیم اور قیمتی تحفہ یعنی پہلا دْخانی انجن دریائے راوی کے کنارے پہنچ گیا۔ اب اگلا مرحلہ اس دیوہیکل مشین کو راوی کی بندر گاہ سے نکال کر اسٹیشن تک پہنچانا تھا جو یقینا جان جوکھوں کا کام تھا۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلیاں: مغربی یورپ کی تاریخ میں جون 2025 گرم ترین مہینہ ریکارڈ
عوام کا جوش و خروش
حکومت وقت نے بڑے فخر سے اس کی لاہور آمد کا اعلان کیا اور خوب ڈھنڈورے پیٹے گئے۔ لوگ ادھر اْدھر سے سْن سنا کر اس انجن کو دیکھنے کے لیے جوق در جوق اس مقام پر پہنچے۔ اس شورو غل سے دور، چوبرجی کے مقام پر اس انجن کے باقاعدہ استقبال کی محفل سجائی گئی تھی، جہاں خوبصورت بینڈ باجے، ناچ گانے اور جشن کا اہتمام کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ماڈل کی ’بکنی‘ میں ریمپ واک، نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا
منصوبہ بندی اور کوششیں
انجن کو اسٹیمر سے باہر نکالنے اور پھر اسے لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹ کر آگے لے جانے کے لیے 100 سے زیادہ بیل گاڑیاں جوتی گئیں۔ سیکڑوں کی تعداد میں مزدور زور آزمائی کے لیے اس قافلے کے ساتھ تھے۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








