ٹرمپ بمقابلہ مسک: سیاسی، معاشی اور خلائی محاذ پر طاقتور شخصیات کی خطرناک جنگ
ٹرمپ اور مسک کے درمیان تنازع
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹیکنالوجی ارب پتی ایلون مسک کے درمیان حالیہ تنازع نے سیاسی، معاشی اور سماجی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 14 اگست کو یہ مجھے گرفتار بھی کرتے ہیں تو کرلیں، میں ضمانت نہیں کرواؤں گی، علیمہ خان
تنازع کا آغاز
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق یہ تنازع، جو ٹرمپ کے مجوزہ بگ بیوٹیفل بل سے شروع ہوا، سوشل میڈیا پر شدید لفاظی اور ذاتی حملوں تک جا پہنچا۔ یہ محض 2 طاقتور شخصیات کی لڑائی نہیں، بلکہ ایک ایسی جنگ ہے جو سیاسی دھاروں، معاشی استحکام اور عالمی خلائی پروگراموں تک کو متاثر کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا ملک ریاض کو بھیجا گیا اہم پیغام سامنے آگیا
مسک کی تنقید
تفصیلی رپورٹس کے مطابق یہ تنازع 3 جون کو اس وقت شروع ہوا جب ایلون مسک نے ٹرمپ کے مجوزہ بگ بیوٹیفل بل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ بل، جس میں ٹیکس کٹوتیوں، امیگریشن اصلاحات اور اخراجات میں کمی شامل تھی، کانگریشنل بجٹ آفس کی رپورٹ کے مطابق 10 سالوں میں 2.4 ٹریلین ڈالر کا خسارہ بڑھانے اور 10.9 ملین افراد کو صحت کی انشورنس سے محروم کرنے کا باعث بن سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدارتی انتخابات : ٹیکساس سمیت مزید 9 ریاستوں میں قبل ازوقت ووٹنگ شروع
ٹرمپ کا جواب
مسک، جو ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی کے سربراہ تھے، نے اسے مالیاتی بدانتظامی اور گھناؤنی خرابی قرار دیا، جو ان کے بجٹ اصلاح کے ایجنڈے سے متصادم تھا۔ ٹرمپ نے اس تنقید کو ذاتی حملہ سمجھا اور 5 جون کو مسک کو "ایک شخص جو اپنا دماغ کھو چکا ہے" کہہ کر جوابی وار کیا۔ انہوں نے مسک کی کمپنیوں، خاص طور پر اسپیس ایکس کے 38 ارب ڈالر کے سرکاری معاہدوں کو منسوخ کرنے کی دھمکی دی۔
یہ بھی پڑھیں: سپین میں بزرگ خواتین اور ان کے معذور بھائی کا قتل کیس، پاکستانی شہری کو 36 سال قید سنا دی گئی۔
سوشل میڈیا پر کشیدگی
مسک نے بھی پیچھے نہ ہٹتے ہوئے ٹرمپ پر جیفری ایپسٹین کے خفیہ فائلز چھپانے کا الزام لگایا۔ ایلین مسک نے ٹرمپ کے مواخذے کا مطالبہ کیا، جس سے یہ تنازع سوشل میڈیا پر ایک طوفان بن گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وہ صارفین جن پر انسٹاگرام نے بڑی پابندی عائد کر دی
اقتصادی اثرات
تنازع کے اثرات صرف سیاسی دائرے تک محدود نہیں ہیں: 5 جون کو ٹیسلا کے حصص 14.2 فیصد گر گئے، جس سے کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں 152 ارب ڈالر کی کمی ہوئی اور مسک کی ذاتی دولت 33 ارب ڈالر کم ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: مہنگی کتابیں اور یونیفارم فروخت کرنے پر 17 بڑے نجی سکول سسٹمز کو شوکاز نوٹس جاری
عالمی توجہ
اس تنازع کو عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل ہوئی، جہاں روس کے سابق صدر دمتری میدویدیف نے طنزیہ کہا کہ روس ٹرمپ اور مسک کے درمیان امن معاہدہ کروا سکتا ہے اگر اس کے بدلے اسٹارلنک کے حصص دیے جائیں۔
مستقبل کی پیشگوئی
ایلون مسک کے والد نے اس تنازع کو دو گوریلوں کی لڑائی سے تشبیہ دی، جو کہ غلبہ کی جنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اس تنازع میں زیادہ طاقتور ہیں اور ایلون کو یہ قبول کر لینا چاہیے۔








