نیپرا دستاویز نے کے الیکٹرک کی ناقص کارکردگی کا بھانڈا پھوڑ دیا
نیپرا کی رپورٹ کا انکشاف
اسلام آباد (آئی این پی) نیپرا کی جاری کردہ دستاویز نے کے الیکٹرک کی ناقص کارکردگی کا بھانڈا پھوڑ دیا، جس میں یہ واضح کیا گیا کہ کے الیکٹرک نے سستی بجلی خریدنے کے بجائے مہنگی بجلی پیدا کی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی پاسپورٹ بتدریج ترقی کے بعد ٹاپ 100 پاسپورٹس میں شامل ہوگیا
مہنگی بجلی کی پیداوار
میڈیا رپورٹ کے مطابق، کے الیکٹرک وفاق سے سستی بجلی لینے میں ناکام رہا اور مہنگے ذرائع سے بجلی کی پیداوار جاری رکھی۔ مارچ میں سستی بجلی نہ خریدنے سے کے الیکٹرک کے صارفین پر ڈھائی ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑا۔ وفاق کی سستی بجلی خریدنے کے بجائے، کے الیکٹرک نے مہنگی ایل این جی سے بجلی پیدا کی۔ نیپرا کی دستاویز نے اس صورتحال کی ناقص کارکردگی کو واضح کیا، جس میں کہا گیا کہ کے الیکٹرک وفاق سے سستی بجلی لینے کے بروقت انتظامات کرنے میں ناکام رہی۔
یہ بھی پڑھیں: سرور شاہدہ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر سائنس ٹرسٹ کی لینڈ سائٹ پر تقریب کا انعقاد
سیکشن میں تاخیر کے اثرات
ممبر نیپرا رفیق شیخ نے کہا کہ انٹر کنکشن میں تاخیر کی وجہ سے صارفین پر اضافی بوجھ پڑرہا ہے۔ کے الیکٹرک وفاق سے 1600 کے بجائے 1312 میگا واٹ بجلی لے رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مارچ میں کے الیکٹرک نے اپنے پیداواری یونٹ کم صلاحیت پر چلائے جس کی وجہ سے پاور پلانٹس کی چلانے کی لاگت میں اضافہ ہوا۔
مالی نقصانات کی وجوہات
رفیق شیخ نے مزید کہا کہ مالی نقصانات کم کرنے کے لیے کے الیکٹرک کو اپنی نااہلیوں پر قابو پانا ہوگا۔ اگر کے الیکٹرک بہتر انتظامات کرے تو وہ عوام کو لوڈشیڈنگ سے نجات دلانے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔








