ویپنگ سمیت وہ 7 عادتیں جو مردانہ صحت کو متاثر کرتی ہیں
جدید دنیا کے چیلنجز
لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) آج کی جدید دنیا میں جہاں ایک طرف طب نے ترقی کی ہے، وہیں کچھ نئے مسائل بھی ابھر رہے ہیں جن کے بارے میں سائنسدان کبھی نہیں سوچا کرتے تھے۔ بہت سی جدید عادات، جنہیں ہم عام سمجھتے ہیں، درحقیقت ہماری صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں، خاص طور پر مردوں کی تولیدی صحت پر۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری، علی پور میں حفاظتی بند ٹوٹ گیا
ویپنگ (Vaping)
ڈاکٹر نائی کا کہنا ہے کہ ویپنگ، خاص طور پر ڈسپوزایبل ویپس، براہ راست خصیوں کے خلیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے جو سپرم کی پیداوار اور معاونت کے ذمہ دار ہیں۔ ویپنگ مصنوعات میں موجود زہریلے مادے، ری ایکٹیو آکسیجن اسپیسیز (reactive oxygen species) اور کارسینوجنز (carcinogens) سپرم کی مسلسل پیداوار میں خلل ڈالتے ہیں۔ مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ویپنگ یا سگریٹ نوشی کرنے والے مردوں میں سپرم کی تعداد اور ارتکاز کم ہوتا ہے۔ ویپنگ چھوڑنے کے بعد بھی سپرم پر منفی اثرات تین ماہ تک رہ سکتے ہیں، اس لیے اگر آپ خاندان شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ویپنگ چھوڑنا "زرخیزی" کے تحفظ کے لیے بہترین قدم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں زلزلہ
پروسیسڈ فوڈز کا زیادہ استعمال
جو لوگ بہت زیادہ الٹرا پروسیسڈ فوڈز (fast food) کھاتے ہیں، ان میں سپرم کی تعداد کم ہونے اور سپرم کی سرگرمی میں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ الٹرا پروسیسڈ فوڈز موٹاپے سے بھی جڑے ہوئے ہیں، جو تولید کے لیے ضروری ہارمونز میں خلل ڈال کر سپرم کے معیار کو مزید متاثر کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وہ ’قاتل گانا‘ جسے سن کر 100 افراد کی جانیں چلی گئیں
بہت کم یا بہت زیادہ ورزش
ڈاکٹر نائی کے مطابق باقاعدہ ورزش ضروری ہے کیونکہ یہ جسم میں خون اور آکسیجن کے بہاؤ کو برقرار رکھنے میں مدد کرتی ہے، جو صحت مند سپرم کے لیے اہم ہے۔ جو لوگ ورزش نہیں کرتے، وہ اکثر وزن بڑھا لیتے ہیں اور دل کے مسائل پیدا کر سکتے ہیں، جو دونوں ہی سپرم کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ دوسری طرف، بہت زیادہ ورزش بھی مسئلہ بن سکتی ہے، کیونکہ یہ جسم کا درجہ حرارت بڑھاتی ہے اور نقصان دہ مالیکیولز پیدا کرتی ہے جو سپرم خلیوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں ذیقعد 1446 ہجری کا چاند نظر آگیا
تنگ زیر جامہ پہننا یا لیپ ٹاپ گود میں استعمال کرنا
خصیوں کو صحت مند سپرم پیدا کرنے کے لیے جسم کے باقی حصوں سے ٹھنڈا رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تنگ زیر جامہ پہننے یا لیپ ٹاپ کو گود میں رکھنے سے خصیوں کے ارد گرد کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے، جو سپرم کی پیداوار اور معیار کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں 60 ہزار کمیونٹی آفیسرز بھرتی کیے جائیں گے: عظمیٰ بخاری
بہت زیادہ شراب نوشی
الکحل سپرم کے لیے ایک حقیقی قاتل ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ ٹیسٹوسٹیرون کی پیداوار میں رکاوٹ ڈالتا ہے، جو سپرم کی نشوونما کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ پچھلے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو مرد کبھی کبھار یا بالکل شراب نہیں پیتے، ان میں روزانہ شراب پینے والوں کے مقابلے میں زیادہ سیمن اور معمول کے سپرم کا زیادہ فیصد ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سردی کی دستک: محکمہ موسمیات نے بارشوں اور ژالہ باری کی پیشگوئی کردی
بی پی اے (BPA) کی نمائش
مائیکرو پلاسٹکس ہر جگہ موجود ہیں، اور ایک حالیہ مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ مردوں کے ہر خصیہ میں لیگو (Lego) کے ایک چھوٹے ٹکڑے کے برابر مائیکرو پلاسٹک موجود ہوسکتا ہے۔ یہ پلاسٹک ہارمونل سگنلز میں خلل ڈال سکتے ہیں، جو زرخیزی اور سپرم کی نشوونما کے لیے بہت اہم ہیں۔
اوزیمپک (Ozempic) کا استعمال
اوزیمپک ایک ذیابیطس کی دوا ہے، جو وزن کم کرنے کے مقاصد کے لیے بھی استعمال کی جا رہی ہے، حالانکہ یہ براہ راست وزن کم کرنے والی دوا نہیں ہے۔ اس دوا کے صارفین نے عضو مخصوصہ کے مسائل کی اطلاع دی ہے۔ اگرچہ اس بات کا کوئی واضح ثبوت نہیں ہے کہ اوزیمپک سپرم کی تعداد کو کم کرتا ہے، لیکن ڈاکٹر نائی کا خیال ہے کہ عضو خاص کے مسائل سپرم کی تعداد میں کمی کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں۔








