بجٹ خسارہ 6501 ارب روپے رہنے کا تخمینہ، دفاع کیلئے 2550 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
آئندہ مالی سال بجٹ کے اہم نکات
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) آئندہ مالی سال 26-2025 کے وفاقی بجٹ کے اہم نکات سامنے آگئے ہیں جن کے مطابق آئندہ مالی سال بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 5 فیصد رہنے کا تخمینہ جبکہ دفاع کے لیے 2550 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر آپ کی پہلی بیوی اچھی ہے تو دوسری شادی کیا ضرورت ہے؟
اخراجات اور ریونیو کا تخمینہ
نجی ٹی وی سما نیوز ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال مجموعی اخراجات 17 ہزار 573 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے، مجموعی وفاقی ریونیو کا ہدف 19298 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کی گوادر اور گلگت بلتستان میں بجلی کے منصوبوں کی منظوری
ٹیکس وصولی کا ہدف
ایف بی آر ٹیکس وصولی کا ہدف 14131 ارب رکھنے جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5167 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، صوبوں کو محاصل کی منتقلی کا تخمینہ 8206 ارب روپے ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: قائم مقام امریکی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر کا پی ڈی ایم اے پنجاب ہیڈ آفس کا دورہ، ریلیف کمشنر کی بریفنگ
وفاقی آمدن اور قرضوں کی ادائیگی
خالص وفاقی آمدن 11072 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے، قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے 8207 ارب روپے مختص کرنے جبکہ دفاع کیلئے 2550 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محمد رضوان کے کپتان بننے پر شعیب ملک کا رد عمل
حکومتی نظام اور ترقیاتی بجٹ
حکومتی نظام چلانے کے کیلئے 971 ارب روپے، پینشنز کی ادائیگی کیلئے 1055 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، سبسڈیز کی مد میں 1186 ارب روپے، گرانٹس کی مد میں 1928 ارب روپے ، ترقیاتی بجٹ کیلئے ایک ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہری پور کے پہاڑی جنگلات میں آگ بے قابو، کئی میل رقبہ لپیٹ میں آ گیا
بجٹ خسارہ کی تفصیلات
آئندہ سال جاری اخراجات 16 ہزار 286 ارب روپے رہنے کا تخمینہ، آئندہ مالی سال بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 5 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔ بجٹ خسارہ 6501 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔
بجٹ پیش کرنے کی تاریخ
واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2025-2026 کا 17 ہزار 600 ارب روپے کا بجٹ آج شام کو پیش کیا جائے گا، وزیر خزانہ قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے۔








