بگ بیش لیگ: پاکستانی کرکٹرز نے ڈرافٹ کیلئے رجسٹریشن کرالی
پاکستانی کرکٹرز کی بگ بیش لیگ میں شمولیت
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) 5 پاکستانی کرکٹرز نے آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ کے ڈرافٹ کے لیے رجسٹریشن کروالی۔
یہ بھی پڑھیں: گلابوں کے کھیتوں کی تصاویر بنانا چاہتا تھا، مرکزی لائن کو عبور کر ہی رہا تھا کہ انجن کے خوفناک وسل کی آواز سنائی دی، مڑ کر دیکھا تو وہ میرے اوپر ہی آ پہنچا تھا۔
رجسٹرڈ کھلاڑیوں کی فہرست
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق شاہین آفریدی، محمد رضوان، حارث رؤف اور شاداب خان نے بگ بیش لیگ کے ڈرافٹ کے لیے رجسٹریشن کرائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کی جانب سے پنجاب میں ریسٹورنٹس، بیکریوں اور شادی ہالز کے لیے اہم ہدایات
ویمنز ڈرافٹ میں شامل کھلاڑی
ڈبلیو بی بی ایل 11 میں ویمنز ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا کا نام بھی ڈرافٹ کے لیے دستیاب کھلاڑیوں میں شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سرسبز کوٹ سادات کے تحت نوجوانوں کی اپنی مدد آپ کے تحت شجر کاری مہم جاری، بازار میں مفت پودوں کے گملے تقسیم کیے
بین الاقوامی کھلاڑیوں کی شمولیت
اس کے علاوہ ویسٹ انڈیز کے شیمر جوزف، نیوزی لینڈ کے لوکی فرگوسن، ٹِم ساؤتھی انگلینڈ کے سیم کرن، ایلکس ہیلز اور سری لنکا کے کوشال پریرا بھی لسٹ کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں بھارت کے خلاف تاریخی فتح پر مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد منظور
ڈبلیو بی بی ایل 11 کی ابتدائی فہرست
ڈبلیو بی بی ایل 11 کی ابتدائی فہرست میں انگلینڈ کی ہیتر نائٹ، لارین بیل، ڈینی وائٹ اور سوفی ایکلسٹون، بھارت کی جمیما روڈریگز اور شیکھا پانڈے، جنوبی افریقا کی شبنم اسماعیل، کلوئی ٹرائن اور ویسٹ انڈیز کی ڈیانڈرا ڈوٹن بھی فہرست کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹک کا امریکہ میں مستقبل کیا ہو گا؟ ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑا اعلان کر دیا
مجموعی رجسٹریشن کی صورتحال
مجموعی طور پر ڈرافٹ کے لیے کل 600 سے زائد انٹرنیشنل کھلاڑیوں نے رجسٹریشن کروائی ہے جب کہ بگ بیش لیگ 15 اور ویمن بگ بیش لیگ 11 کے لیے ڈرافٹ 19 جون کو منعقد ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: ایئر انڈیا کی پرواز کی جہاز میں بم کی اطلاع پر تھائی لینڈ میں ہنگامی لینڈنگ
بی بی ایل کے منیجر کا بیان
منیجر بی بی ایل الیسٹرڈوبسن کا کہنا ہے کہ ان عالمی ستاروں کی شرکت بگ بیش لیگ میں ایک نیا رنگ بھر دے گی۔
عالمی کھلاڑیوں کی کشش
انہوں نے کہا کہ شاہین آفریدی، محمد رضوان، ہیتر نائٹ اور سوفی ایکلسٹون جیسے نام یہ ثابت کرتے ہیں کہ بی بی ایل اور ڈبلیو بی بی ایل دنیا بھر کے بڑے کھلاڑیوں کے لیے پرکشش لیگز ہیں۔








