پاکستان کا قرضہ 6.7 فیصد بڑھ کر 760 کھرب روپے سے متجاوز
پاکستان کے عوامی قرضے میں اضافہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) مالی سال 2025 کے پہلے 9 ماہ کے دوران پاکستان کے عوامی قرضے میں 6.7 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو 760 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا۔
یہ بھی پڑھیں: قتل ہونے والے صحافی اے ڈی شرکی ابتدائی میڈیکل رپورٹ جاری کردی گئی
عوامی قرضے کی تفصیلات
اقتصادی سروے 2024-25 کے مطابق اس میں 515.18 کھرب روپے کا ملکی قرضہ اور 244.89 کھرب روپے کا بیرونی قرضہ شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت پنجاب کا سوا 2 ارب کی لاگت سے گرین کوریڈور منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ
مارک اپ کے اخراجات
مارک اپ کے اخراجات نے مکمل سال کے بجٹ تخمینے کا 66 فیصد (6,439 ارب روپے) استعمال کیا جس کا زیادہ تر حصہ (5,783 ارب روپے) ملکی قرض پر تھا۔
یہ بھی پڑھیں: متناسب طریقہ نمائندگی کے تحت منتخب ہونے والی اسمبلیاں مختلف طبقات کی صحیح عوامی نمائندہ ہونگی جس سے جمہوریت اور سیاسی جماعتیں مضبوط ہونگی۔
قرض کی سروسنگ پر اخراجات
حکومت نے جولائی تا مارچ کی مدت میں قرض کی سروسنگ پر 64.39 کھرب روپے خرچ کیے جو پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں کم رہا جس کی بنیادی وجہ بنیادی سرپلس میں اضافہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ادویات کی قیمتیں بڑھنے سے سرکاری ہسپتالوں کو مسائل کا سامنا
طویل مدتی مالی حکمت عملی
حکومت نے قرض کی پختگی کو طول دینے اور قلیل مدتی ادائیگی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے طویل مدتی آلات جیسے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (PIBs) اور سکوک پر انحصار کیا۔
اس حکمت عملی کے تحت 2.4 کھرب روپے کے ٹریژری بلز (T-bills) کو ریٹائر کیا گیا جب کہ 2 سالہ زیرو کوپن PIB اور 10 سالہ سکوک بھی متعارف کرایا گیا۔
بیرونی قرضے کی صورتحال
بیرونی قرضہ مارچ 2025 کے اختتام پر 87.4 بلین امریکی ڈالر رہا جو جاری مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں تقریباً 883 ملین امریکی ڈالر کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
پاکستان کے بیرونی قرضے کا زیادہ تر حصہ طویل مدتی اور رعایتی قرضوں پر مشتمل ہے جو زیادہ تر کثیر جہتی اور دو طرفہ شراکت داروں سے حاصل کیے گئے ہیں۔








