بجٹ 2025-26 کی تجاویز کی منظوری کے لیے کابینہ کا خصوصی اجلاس جاری
وفاقی بجٹ 2025-26 کی تجاویز
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی بجٹ 2025-26 کی تجاویز کی منظوری کے لیے کابینہ کا خصوصی اجلاس جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی کی وزیر خزانہ سے ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال
اجلاس کی تفصیلات
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیرصدارت نئے مالی سال کے بجٹ کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس جاری ہے، جس میں بجٹ تجاویز کی منظوری دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: کرسٹیانو رونالڈو کا جلد ریٹائرمنٹ کا فیصلہ، وجہ بھی بتا دی
بجٹ کا حجم اور تخمینے
دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال کا بجٹ حجم 17 ہزار 600 ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے۔ بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 5 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ دفاع کے لیے 2550 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ جرمنی، میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں شرکت، عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں
اخراجات اور ریونیو کا ہدف
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال مجموعی اخراجات 17 ہزار 573 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔ مجموعی وفاقی ریونیو کا ہدف 19298 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وہ کرید کرید کر باتیں پوچھتے رہے اور میں حکم کی تعمیل کرتا رہا، قہقہہ لگایا اور کہنے لگے، شہزادوں کی طرح رہتے ہو اور ”Good“رپورٹ کے طالب ہو
ٹیکس وصولی کا ہدف
ایف بی آر ٹیکس وصولی کا ہدف 14131 ارب جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5167 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ صوبوں کو محاصل کی منتقلی کا تخمینہ 8206 ارب روپے ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب نے ایک سال میں سب سے زیادہ سزائے موت دینے کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا
خالص وفاقی آمدن اور دیگر تخمینے
خالص وفاقی آمدن 11072 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8207 ارب روپے، دفاع کے لیے 2550 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام واقعے پر بھارت اور پاکستان کے درمیان باقاعدہ جنگ کا امکان نہیں، امرجیت سنگھ دولت
حکومتی نظام اور دیگر اخراجات
حکومتی نظام چلانے کے لیے 971 ارب روپے، پینشنز کی ادائیگی کے لیے 1055 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ سبسڈیز کی مد میں 1186 ارب روپے، گرانٹس کی مد میں 1928 ارب روپے، اور ترقیاتی بجٹ کے لیے ایک ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
اخراجات کا تخمینہ اور بجٹ خسارہ
آئندہ سال جاری اخراجات 16 ہزار 286 ارب روپے رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 5 فیصد رہنے کی توقع ہے، جبکہ بجٹ خسارہ 6501 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔








