ٹرمپ اپنے دور میں مسئلہ کشمیر حل کر سکیں گے: امریکی محکمہ خارجہ نے امید ظاہر کر دی
بلاول بھٹو کا امریکی دورہ
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کی قیادت میں پاکستانی وفد کے دورہ امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکاروں سے ملاقاتوں پر امریکی محکمہ خارجہ کا ردعمل سامنے آگیا۔
یہ بھی پڑھیں: گندم کے کاشتکاروں کے لیے 1000 مفت ٹریکٹر، فی ایکڑ 5 ہزار کیش گرانٹ سکیم کا آغاز ہو گیا
امریکی محکمہ خارجہ کا بیان
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ٹیمی بروس نے امید ظاہر کی ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے دور میں مسئلہ کشمیر کو حل کرسکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب: مظفر گڑھ میں بچے کے ساتھ اجتماعی درندگی، 5 مشتبہ افراد گرفتار
بلاول کی ملاقات کی تفصیلات
ترجمان امریکی محکمہ خارجہ سے جب سوال کیا گیا کہ محکمہ خارجہ میں انڈر سیکرٹری برائے سیاسی امور ایلیسن ہوکر سے بلاول بھٹو کی کیا بات چیت ہوئی اور آیا امریکہ نے پاکستانی وفد کو کوئی یقین دہانی کرائی ہے کہ حل طلب تنازعات پر بات چیت اور جنگ بندی جاری رکھنے کے لیے امریکی حکومت بھارت کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کرے گی؟
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں آسمانی بجلی گر گئی: بھارتی میڈیا کا وہ کلپ جسے دیکھ کر کرکٹ فینز ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جائیں گے
جنگ بندی کی حمایت
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا کہ پاکستانی وفد کی محکمہ خارجہ کے اہلکاروں بشمول انڈر سیکرٹری برائے سیاسی امور ایلیسن ہوکر سے پچھلے ہفتے ملاقات ہوئی جس میں ایلیسن ہوکر نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری جنگ بندی سے متعلق امریکی حمایت کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کو ان کے بچے اور بہنیں رہائی نہیں دلوا سکتے: سینیٹر عرفان صدیقی
دہشتگردی کے خلاف کارروائی
ٹیمی بروس نے اس بات پر خدا کا شکر ادا کیا کہ بھارت اور پاکستان جیسے ممالک کے درمیان جنگ بندی جاری ہے اور بتایا کہ ایلیسن ہوکر سے ملاقات میں دو طرفہ تعلقات سے متعلق امور پر بھی بات چیت ہوئی جن میں انسداد دہشتگردی تعاون شامل تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ای سی ایل کیس: ایمان مزاری غیر حاضر، کیس منتقل کرنے کی استدعا
پاکستان کی یقین دہانی کا سوال
پریس بریفنگ کے دوران ایک صحافی کی جانب سے پوچھے گئے اس سوال پر کہ آیا پاکستان نے امریکہ کو کسی قسم کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرے گا، ٹیمی بروس نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ وہ پاکستانی وفد اور محکمہ خارجہ کے اہلکاروں کے درمیان ہوئی بات چیت کی تفصیلات پر تبصرہ نہیں کریں گی۔
یہ بھی پڑھیں: کرم میں جھڑپیں، مزید 5 افراد جاں بحق، 8 روز میں اموات کی تعداد 107 ہوگئی
کشمیر پر ثالثی کی پیشکش
ایک اور نمائندے کی جانب سے اس سوال پر کہ صدر ٹرمپ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی تھی، اس پر پیشرفت کس نوعیت کی متوقع ہے، آیا امریکہ دونوں ملکوں کی قیادت کو مدعو کرے گا یا کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی امریکہ حمایت کرے گا؟
یہ بھی پڑھیں: سکیورٹی فورسز کا ضلع خیبر میں آپریشن، 4 خوارج ہلاک
صدر ٹرمپ کے عزم کا ذکر
ٹیمی بروس نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے ذہن میں کیا ہے، وہ کیا منصوبے رکھتے ہیں، وہ اس پر بات نہیں کرسکتیں۔ یہ ضرور جانتی ہیں کہ صدر ٹرمپ کا ہر قدم نسلوں کے درمیان جنگ اور نسلوں کے درمیان جاری اختلافات کو ختم کرنے سے متعلق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یکم جون سے کمی کا امکان
مستقبل کی امید
اس لیے یہ باعث حیرت نہیں ہونا چاہیے کہ صدر ٹرمپ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسائل کو مینج کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ٹیمی بروس نے کہا کہ صدر ٹرمپ وہ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے ایسے لوگوں کو میز پر لا بٹھایا اور بات چیت ممکن بنا دی۔
اختتام
دنیا ان کی فطرت سے خود آگاہ ہے۔ یہ دلچسپ لمحہ ہے کہ ہم اس تنازعہ سے متعلق کسی نکتہ پر پہنچ سکیں۔ اس ضمن میں صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کا شکرگزار ہونا چاہیے۔ یہ بہت ہی ولولہ انگیز لمحہ ہے۔ ہر روز ہم کوئی نئی پیشرفت کرتے ہیں اور مجھے امید ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے دور میں اس مسئلہ کو حل کرسکیں گے۔








