وفاقی بجٹ میں وزیر اعظم کی سرکاری رہائش اور اخراجات 72 کروڑ سے بڑھا کر 86 کروڑ روپے کر دیے گئے
وزیر اعظم کے اخراجات میں اضافہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی بجٹ میں وزیر اعظم شہباز شریف کی سرکاری رہائش اور اخراجات 72 کروڑ سے بڑھا کر تقریباً 86 کروڑ روپے کر دیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: 20 کلو آٹے کا تھیلا 400 روپے مہنگا
ملک کی معاشی حالت
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب ملک میں تقریباً آدھی آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور عام آدمی سے مزید قربانی مانگ کر تقریباً 2 ہزار ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سسرالیوں کے ہاتھوں بہو کا قتل ، چیئر پرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے اہم اعلان کر دیا
وزیر اعظم ہاؤس کے بجٹ کی تفصیلات
وزير اعظم ہاؤس کے اخراجات میں کمی کے بجائے مزید اضافہ کر دیا گیا ہے اور اب یہ رقم تقریباً 86 کروڑ روپے ہوگئی ہے۔ قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے وفاقی بجٹ 26-2025 کے مطابق:
- وزیراعظم ہاؤس کی گاڑیوں کے لیے 9 کروڑ روپے
- وزیراعظم ہاؤس کی ڈسپنسری کے لیے 1 کروڑ 44 لاکھ روپے
- وزیراعظم ہاؤس کے باغیچے کے لیے 4 کروڑ 48 لاکھ روپے
- وزیراعظم کے دوروں کے لیے 60 لاکھ روپے
- پی ایم چیرٹی کے لیے 42 لاکھ روپے
یہ بھی پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف اندرونی خلفشار کا شکار، حقائق سامنے آنے لگے
دیگر بجٹ کی تخصیصات
وفاقی اور وزراء مملکت کے لیے بجٹ 27 کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ 54 لاکھ روپے، اور وزیراعظم کے مشیران کے لیے بجٹ 3 کروڑ 61 لاکھ روپے سے بڑھا کر 6 کروڑ 31 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کے بیان کے بعد روسی ردِعمل: 728 ڈرونز کے ساتھ یوکرین پر سب سے بڑا فضائی حملہ کردیا
کابینہ ڈویژن اور معاونین خصوصی کے لیے بجٹ
کابینہ ڈویژن کے لیے 68 کروڑ 87 لاکھ روپے کا بجٹ مختص کیا جا رہا ہے۔ وفاقی بجٹ میں معاونین خصوصی کے لیے بجٹ 3 کروڑ 70 لاکھ روپے سے بڑھا کر 11 کروڑ 34 لاکھ روپے کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ سینٹرل کار پول کے لیے 62 کروڑ روپے کا بجٹ رکھنے کی تجویز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیمپئینز ٹرافی 2025 کے شیڈول سے متعلق اہم خبر آگئی
قومی اسمبلی اور سینٹ کا بجٹ
قومی اسمبلی کے بجٹ میں آئندہ مالی سال 28فیصد اضافے کی تجویز ہے جو 12 ارب 73 کروڑ سے بڑھا کر 16 ارب 29 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ سینٹ کا بجٹ آئندہ مالی سال 9 ارب ساڑھے 5 کروڑ روپے رکھا گیا ہے جو رواں مالی سال 7 ارب 24 کروڑ روپے تھا.
سوالات
سوال یہ ہے کہ ٹیکسوں کے معاملے پر یورپ کی مثال دینے والے حکمران وہاں کے حکمرانوں جیسی سادگی کب اختیار کریں گے؟








