رمضان پیکیج، یوٹیلٹی اسٹورز اور زرعی ٹیوب ویلز پر سبسڈی مکمل ختم
بجٹ میں سبسڈیز کی کمی
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے آئی ایم ایف کے مطالبے پر بجٹ میں سبسڈیز بل میں 190 ارب روپ کی ریکارڈ کمی کردی۔ نئے بجٹ میں سبسڈی کی مد میں 1186 ارب روپے مختص ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت آصف علی زرداری کی میاں منظور احمد خان وٹو کی رہائش گاہ آمد، خیریت دریافت کی
سبسڈیز کا تخمینہ
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال میں رمضان پیکیج، یوٹیلٹی سٹورز اور زرعی ٹیوب ویلز پر سبسڈی مکمل ختم، تاہم الیکٹرک وہیکل سکیم کے لئے 9 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا، پاکستان کے اوپنر صاحبزادہ فرحان بھی شامل
پاور سیکٹر کی سبسڈیز
پاور سیکٹر میں سبسڈی کے لیے 1036 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، جو واپڈا، پیپکو اور کے ای ایس ای کو دی جائے گی۔ رواں سال کے مقابلے میں پاور سیکٹر کی سبسڈی میں 154 ارب روپے کی کمی کی گئی ہے۔ کے ای ایس ای کو ٹیرف میں فرق کی مد میں 125 ارب کی سبسڈی ملے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سیاح گھنٹوں قطار بنائے منتظر رہتے تھے، میں نے ذہنی طور پر اپنے آپ کو تھکا دینے والے سفر کیلئے تیار کر لیا تھا، کب آنکھ لگی پتہ ہی نہیں چلا
صنعت و پیداوار کیلئے سبسڈیز
شعبہ صنعت و پیداوار کے لئے سبسڈی کم کرکے 24 ارب روپے کر دی گئی ہے، جبکہ رواں مالی سال کے دوران صنعت و پیداوار کے لیے 68 ارب سبسڈی دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں شوہر نے غیرت کے نام پر بیوی کو قتل کردیا۔
یوٹیلٹی اسٹورز اور دیگر سبسڈیز
آئندہ مالی سال رمضان ریلیف پیکیج کے لئے کوئی رقم نہیں رکھی گئی، جبکہ یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن بھی وزیراعظم کے پیکیج سمیت فنڈز سے محروم رہیں گے۔ اسی کے ساتھ، یوٹیلٹی اسٹورز پر چینی کے پرانے واجبات کی ادائیگی کے لئے 15 ارب مختص ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: 20 اوورز میں 349 رنز اور 37 چھکے،ٹی ٹوئنٹی میں نیا ورلڈ ریکارڈ قائم
کھاد اور زرعی سبسڈیز
نئے بجٹ میں کھاد کی سپلائی پر کوئی سبسڈی نہیں دی جائے گی، جبکہ یوریا کھاد کی درآمد پر 7 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔ اسلام آباد میٹرو بس کے لیے سبسڈی کے طور پر 7.30 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ بلوچستان کے زرعی سولر ٹیوب ویلز بھی سبسڈی سے محروم ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں 3300 روپے اضافہ، نئی قیمت 3 لاکھ 70ہزار700 روپے ہو گئی
گندم اورخوراک کی سبسڈیز
گلگت بلتستان کو گندم کی مد میں 20 ارب کی سبسڈی دی جائے گی۔ خوراک کے شعبے میں پاسکو کے لئے 20 ارب روپے سبسڈی مقرر کی گئی ہے۔ آئندہ سال کے دوران کسان پیکیج کے تحت 7 ارب کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
دیگر سیکٹرز میں سبسڈیز
ہاؤسنگ کے لیے 10 ارب، اسٹیٹ بینک کی ری فنانسنگ سکیم کے لئے 30 ارب مختص کرنے کی تجویز ہے۔ پیٹرولیم سیکٹر کے لیے بجٹ میں 1.2 ارب روپے کی سبسڈی مقرر کی گئی ہے، جبکہ ایس ایم ای سیکٹر کے لیے 5.4 ارب کی سبسڈی رکھی گئی ہے۔








