وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کا واک آؤٹ
کشیدگی کی فضاء میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی بجٹ 2025-26 کی تفصیلات پیش کرنے کے لیے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے بلائی گئی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس اس وقت کشیدگی کا شکار ہو گئی جب صحافیوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کانفرنس سے واک آؤٹ کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈرون کا خوف بے اثر ہوگیا: چین نے مائیکروویو شعاعوں والا جدید ہتھیار ایجاد کر لیا
پریس کانفرنس کا پس منظر
نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے مطابق یہ پریس کانفرنس گزشتہ روز بجٹ پیش کیے جانے کے بعد کی جانی تھی، جو نہیں کی گئی۔ اس پر صحافیوں نے تکنیکی بریفنگ نہ دیے جانے اور پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس نہ کرنے پر احتجاجاً واک آؤٹ کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے میں مفت، رعایتی ٹکٹوں کی بندربانٹ کا انکشاف، قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان
وزیر خزانہ کا ردعمل
صحافیوں کے واک آؤٹ پر وزیر خزانہ ہکا بکا رہ گئے جبکہ چئیرمین ایف بی آر صحافیوں کو منانے کے لیے گئے، تاہم بات نہ بن سکی۔
یہ بھی پڑھیں: علاج کے لیے بھارت جانے والے آریان شاہ کی میت کوئٹہ پہنچا دی گئی
صحافیوں کا موقف
کانفرنس ہال میں صرف چند پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کے ملازمین رہ گئے۔ صحافیوں کا کہنا تھا کہ عوام سے بجٹ کے حوالے سے چیزوں کو کیوں چھپایا جا رہا ہے، اس کی وجوہات بتائی جائیں۔ انہوں نے بجٹ میں ٹیکس چھپانے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ تکنیکی بریفنگ نہ دے کر حقائق چھپانے کی کوشش کی گئی۔
پریس کانفرنس کا اختتام
صحافیوں کی ناراضی اور واک آؤٹ کے بعد وزیر خزانہ نے میڈیا نمائندوں کے بغیر ہی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس شروع کردی۔








