متعدد بار فلموں میں اداکاری کی پیش کش ہوئی :گلوکارہ شبنم مجید
گلوکارہ شبنم مجید کے انکشافات
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ماضی کی مقبول گلوکارہ شبنم مجید نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں متعدد بار فلموں اور ڈراموں میں کام کی پیش کش ہوئی۔ ایک بار تو وہ ٹیلی فلم کی شوٹنگ چھوڑ کر واپس آ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل کی کامیابیاں اور منفی پروپیگنڈا مہم ۔۔
کیریئر کا آغاز
ڈان کے مطابق، شبنم مجید نے 1990 کے بعد گلوکاری کا آغاز کیا۔ ان کی آواز میں لولی وڈ کی متعدد فلموں کے گانے شامل کیے گئے، جنہیں کافی پذیرائی ملی۔
یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن نے اسلام آباد بلدیاتی انتخابات سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا
بچپن کی محبت اور شادی
گلوکارہ نے بتایا کہ انہوں نے کبھی یک طرفہ محبت نہیں کی اور اسے وقت کا نقصان سمجھتی ہیں۔ پیار ہوجانے پر انہوں نے اپنے پسندیدہ موسیقار سے شادی کی اور اب ان کے بچے جوان ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سلامتی کونسل؛ پاکستان کا کالعدم بی ایل اے پر عالمی پابندیاں لگانے کا مطالبہ
پہلا ایوارڈ
شبنم مجید نے بچپن سے گلوکاری کا شوق رکھا اور پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) سے گلوکاری کا آغاز کیا۔ کم عمری میں ہی ایوارڈز بھی جیتے۔
یہ بھی پڑھیں: کامن ویلتھ بیچ ہینڈ بال چیمپئن شپ میں پاکستان نے بھارت کو شکست دے دی
نصرت فتح علی خان کا اثر
گلوکارہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان کی مقبول ترین موسیقاروں، گلوکاروں اور نغمہ نگاروں کے ساتھ کام کیا، جس کی وجہ سے انہیں جلد شہرت ملی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ نے ایران کی تین جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، انہیں پہلے ہی خالی کرا لیا گیا تھا
ڈراموں اور فلموں میں کام کی پیش کش
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انہیں متعدد بار ڈراموں اور فلموں میں کام کی پیش کش ہوئی لیکن انہوں نے اداکاری کو مشکل کام سمجھ کر ان پیشکشوں کو مسترد کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا حکومت نے صحت کارڈ کی طرز پر کس شعبے کیلیے کارڈ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا؟ جانیے
ٹیلی فلم کی شوٹنگ کی کہانی
شبنم مجید نے کہا کہ سید نور اور پرویز ملک نے بھی انہیں کام کی پیش کش کی، لیکن جب وہ شوٹنگ سیٹ پر گئیں تو کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود شوٹنگ شروع نہ ہو سکی، جس پر وہ واپس آ گئیں۔
آنے والے منصوبے
شبنم مجید نے بتایا کہ وہ جلد ہی ایک میوزیکل ٹیلی فلم میں نظر آئیں گی، جس میں نئے فنکاروں کو موسیقی کی دنیا میں پیش آنے والی مشکلات سے آگاہ کیا جائے گا۔








