اسرائیلی پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا بل مسترد، نیتن یاہو کیخلاف اپوزیشن کو ناکامی
اسرائیلی پارلیمنٹ کا بل مسترد
تل ابیب (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیلی پارلیمنٹ "کنیسٹ" نے اپوزیشن کی طرف سے پیش کردہ پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا بل مسترد کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: نوازشریف کے تو کھانے گھر سے آتے تھے، سو سو بندہ ملنے جاتا تھا، بانی پی ٹی آئی کی تمام جیل سہولیات ختم کردی گئیں، علیمہ خان
ووٹنگ کا نتیجہ
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق جمعرات کو بل پر ووٹنگ ہوئی جس میں 120 میں سے 61 ارکان نے اس کے خلاف جبکہ 53 نے حمایت میں ووٹ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 9 دہشتگرد ہلاک
اپوزیشن کی امیدیں
اپوزیشن نے امید ظاہر کی تھی کہ وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کے خلاف، خاص طور پر یہودیوں کی لازمی فوجی بھرتی جیسے متنازع معاملے پر ناراض حکومتی جماعتوں کی حمایت حاصل کر کے قبل از وقت انتخابات کا راستہ ہموار کرے گی، تاہم یہ کوشش ناکام رہی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سنگجانی میں دھرنے پر آمادہ تھے لیکن بشریٰ بی بی نے انکار کیا، بیرسٹر سیف کا انکشاف
حکومتی اتحاد کی کامیابی
نیتن یاہو کی زیر قیادت حکومتی اتحاد نے بل کے خلاف متحد ہو کر ووٹ دیا اور اپوزیشن کی حکمت عملی کو ناکام بنا دیا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اب اپوزیشن کو ایسا بل دوبارہ پیش کرنے کے لیے کم از کم چھ ماہ انتظار کرنا ہوگا۔
حکومت کا پس منظر
واضح رہے کہ نیتن یاہو کی دائیں بازو کی جماعت لیکود پارٹی نے 2022 میں چھ دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت تشکیل دی تھی۔








