انتہائی خفیہ معلومات افشا کرنے پر سابق سی آئی اے ملازم کو سزا سنا دی گئی
نیویارک میں سزا سنائی گئی
نیویارک (ویب ڈیسک) امریکا کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سابق تجزیہ کار آصف ویلیم رحمان کو 37 ماہ قید کی سزا سنادی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے بیٹرز کے ردعمل کو دیکھتے ہوئے گیند ڈال رہا تھا، پلئیر آف دی میچ کلدیپ یادیو نے پاکستان کے خلاف اپنی اصل چال بتا دی
خفیہ معلومات کا افشا
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق آصف رحمان کو سزا قومی دفاع سے متعلق انتہائی حساس معلومات غیر قانونی طور پر حاصل کرنے اور انہیں ایسے افراد کو منتقل کرنے پر سنائی گئی جو ان معلومات کو رکھنے کے مجاز نہیں تھے۔ اکتوبر سن 2024 میں یہ خفیہ معلومات سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی شیئر کردی گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: کولمبیا میں خوفناک بیماری نے پھیلنا شروع کر دیا، درجنوں افراد ہلاک
آصف ویلیم رحمان کا پس منظر
عدالت میں پیش دستاویز کے مطابق 34 برس کے آصف ویلیم رحمان کا تعلق امریکی ریاست ورجینیا کے شہر ویانا سے ہے۔ وہ سن 2016 سے سی آئی اے کا ملازم تھا اور اسے انہتائی خفیہ معلومات تک رسائی حاصل تھی۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ، اے غزہ۔۔۔
آصف رحمان کا بنیادی پس منظر
بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق آصف رحمان کیلیفورنیا میں پیدا ہوا، اوہائیو میں پلا بڑھا اور ورجینیا میں مقیم تھا۔ اس نے اسرائیل کی جانب سے ایران پر جوابی حملے کی تیاری سے متعلق خفیہ معلومات افشا کی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں مساجد کے باہر گداگری اور اشیاء فروخت کرنے پر پابندی
ایران اور اسرائیل کے درمیان تعلقات
ایران نے حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کو تہران میں شہید کیے جانے کے جواب میں یہ حملہ یکم اکتوبر کو کیا تھا اور اسے حزب اللہ سربراہ حسن نصراللہ کی اسرائیل کے ہاتھوں شہادت کا بدلہ بھی قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی سے فیملی اور وکلاء کی ملاقات کا دن، علیمہ خان کی خواتین اور کارکنان کے ہمراہ ماربل فیکٹری ناکے پر قرآن خوانی
قومی سلامتی کے حکام کا ردعمل
آصف کو سزا پر ردعمل میں قومی سلامتی سے متعلق امریکا کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل جان آئزنبرگ نے کہا کہ کئی ماہ تک اس شخص نے امریکی عوام کو دغا دی اور اپنے حلف کی خلاف ورزی کی، تاہم اس مقدمے سے واضح ہے کہ محکمہ انصاف راز افشا کرنے والوں کیخلاف قوم کا تحفظ کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب ملیا میٹ کر دیا، وزیر خارجہ
ایک وارننگ
ورجینیا کے اٹارنی ایریک سیبرٹ نے کہا کہ آصف رحمان نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی قومی سلامتی سے متعلق اہم معلومات افشا کرکے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔ یہ مقدمہ ان لوگوں کیلئے وارننگ ہے جو اپنے مقاصد کو قوم پر غالب کرنا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی پر بہن کو قتل اور بہنوئی کو زخمی کرنے والا شخص ساتھی سمیت گرفتار
آج کا دور
ایف بی آئی کے کاؤنٹر انٹیلی جنس ڈویژن میں معاون ڈائریکٹر رومن روزہاؤسکی نے کہا کہ آصف امریکی قومی سلامتی کو خطرات سے دوچار کرنے کی اب قیمت چکائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی ائیرپورٹ پر کھڑے طیارے سے گاڑی ٹکرا گئی
اپنی گرفتاری تک کا سفر
رحمان پر 7 نومبر سن 2024 کو فرد جرم عائد کی گئی تھی، وہ کمبوڈیا میں امریکی سفارتخانے میں ملازم تھا اور وہیں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس سال 17 جنوری کو اس نے 2 جرائم کا اعتراف کر لیا تھا اور گرفتاری کے بعد سے اب تک قید میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روسی صدر پیوٹن نے ایران کے جوہری تنازع پر ثالثی کی پیشکش کردی
ایران کی جانب سے ایک نیا دعویٰ
آصف ویلیم رحمان کو سزا ایسے وقت سنائی گئی ہے جب ایران کے انٹیلی جنس سے متعلق امور کے وزیر اسماعیل خطیب نے دعویٰ کیاہے کہ ایران کے پاس خفیہ معلومات کا خزانہ ہاتھ آیا ہے۔
آنے والی معلومات
اسماعیل خطیب کا کہنا ہے کہ یہ معلومات اسرائیل کی نیوکلیئر تنصیبات اور مغربی ممالک سے اس کے تعلقات کی نوعیت سے متعلق ہے اور یہ جلد منظر عام پر لائی جائیں گی۔








