نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر کی سزائے موت کا تحریری فیصلہ جاری
سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھنے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ عالمی مارچ: ہزاروں افراد کا غزہ پر اسرائیلی محاصرہ توڑنے کیلئے مارچ کا فیصلہ، پہلا قافلا روانہ
تفصیلی فیصلہ
رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کا تفصیلی تحریری فیصلہ 13 صفحات پر مشتمل ہے، فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ سائلنٹ وِٹنس تھیوری کے مطابق بغیر عینی گواہ کے ویڈیو ثبوت قابل قبول ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت اپنے ہی ملک کے بچے مار کر ہم سے لاشوں کا سوال کر رہی ہے، یاسمین راشد
ویڈیو ثبوت کی اہمیت
رپورٹ کے مطابق مستند فوٹیج خود اپنے حق میں ثبوت بن سکتی ہے، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا تصاویر بطور شہادت پیش کی جا سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 26ویں ترمیم معاہدہ: حکومت وعدے پر قائم نہیں رہتی تو ہمیں عدالت جانا ہوگا، مولانا فضل الرحمان
سپریم کورٹ کا نقطہ نظر
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ قابل اعتماد نظام سے لی گئی فوٹیج خود بخود شہادت بن سکتی ہے، ایک بینک ڈکیتی کیس میں ویڈیو فوٹیج بغیر گواہ کے قبول کی گئی۔ امریکی عدالتوں میں سائلنٹ وِٹنس اصول کو وسیع پیمانے پر تسلیم کر لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اگر شملہ معاہدہ ختم ہوتا ہے تو لائن آف کنٹرول کا وجود بھی نہیں رہے گا ، خواجہ آصف
معاملہ کی شدت
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ملزم ظاہر جعفر نور مقدم کا بے رحم قاتل ہے، ہمدردی کے قابل نہیں، دونوں نچلی عدالتوں کا فیصلہ متفقہ طور پر درست قرار دیا جاتا ہے۔ ملزم کی جانب سے نور مقدم پر جسمانی تشدد کی ویڈیو ثبوت کے طور پر پیش کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: سیاسی اختلافات کو نفرت میں تبدیل نہیں کرنا چاہئے، حافظ نعیم الرحمان
سی سی ٹی وی بنیادیں
سپریم کورٹ نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج، DVR اور ہارڈ ڈسک قابلِ قبول شہادت ہیں۔ ویڈیو ریکارڈنگ میں کوئی ترمیم ثابت نہیں ہوئی، ملزم کی شناخت صحیح نکلی، ڈی این اے رپورٹ سے زیادتی کی تصدیق ہوئی، آلہ قتل پر مقتولہ کا خون موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کیخلاف اسلام آباد پولیس میں درج مقدمات کی تعداد 76 ہو گئی
ڈیجیٹل شواہد کی نوعیت
عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزم نور مقدم کی موجودگی کی کوئی وضاحت نہ دے سکا۔ ڈیجیٹل شواہد اب بنیادی شہادت تصور کیے جاتے ہیں، اگر CCTV فوٹیج مقررہ معیار پر پوری اترے تو تصدیق کی ضرورت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آہیں کراچی ایئرپورٹ کے قریب دھماکے کی آواز سنی گئی
حکم کی تفصیلات
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ظاہر جعفر کی قتل میں سزائے موت برقرار ہے جب کہ زیادتی کی سزا عمر قید میں تبدیل کی جاتی ہے۔ مرکزی مجرم ظاہر جعفر زاکر کو اغواء کے الزام سے بری قرار دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جو رہنما اپنے ساتھ لوگوں کو نہ لایا یا احتجاج سے پہلے گرفتار ہوا وہ پارٹی سے باہر ہو گا، بشریٰ بی بی کی ہدایت
شریک ملزمان کے احکامات
عدالت عظمیٰ نے کہا کہ نور مقدم کو غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھنے پر ظاہر جعفر کی سزا برقرار ہے، شریک ملزمان محمد افتخار اور محمد جان کی سزا برقرار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاکھوں روپے مالیت کی 1600 فٹ سے زائد ریلوے لائنیں چوری کرنے والا گروہ گرفتار
سزاؤں میں نرمی
سپریم کورٹ نے شریک ملزمان سے نرمی برتتے ہوئے سزائیں کم کرتے ہوئے جتنی قید کاٹ لی اس کے بعد رہا کرنے کا حکم دیا۔
اضافی نوٹ
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ جسٹس علی باقر نجفی فیصلے کے حوالے سے اپنا اضافی نوٹ دیں گے。








