عالمی بینک کا حیران کن یوٹرن، جوہری توانائی پر عائد پابندی ختم کر دی
عالمی بینک کا جوہری توانائی منصوبوں پر پابندی ختم کرنے کا فیصلہ
واشنگٹن(ویب ڈیسک) عالمی بینک نے ترقی پذیر ممالک میں جوہری توانائی کے منصوبوں پر عائد طویل المدتی پابندی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خواتین کے گروپ “کبابش پنک کلب” کی بنیاد رکھنے کا اعلان
توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات
بینک کے صدر اجے بانگا کے مطابق یہ فیصلہ بجلی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے اور ترقیاتی اہداف کی حصول کے لیے ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نئی دہلی مکمل فنڈنگ کر رہی ہے،دہشت گرد جو زبان سمجھتے ہیں انہیں اسی میں جواب دیا جائے گا، :خواجہ آصف
نئی توانائی پالیسی کی منظوری
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بینک کے صدر نے گزشتہ روز عملے کو بھیجی گئی ایک ای میل میں کہا کہ بورڈ کے ساتھ منگل کو ہونے والی تعمیراتی گفتگو کے بعد نئی توانائی پالیسی کی منظوری دی گئی ہے، تاہم اپ اسٹریم قدرتی گیس کے منصوبوں کی فنڈنگ پر بورڈ میں تاحال مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ہندو کونسل نے ہولی سادگی سے منانے کا اعلان کر دیا
پیش منظر: بینک کی پچھلی پالیسیاں
واضح رہے کہ عالمی بینک جو ترقی پذیر ممالک کو کم شرح سود پر قرض فراہم کرتا ہے، نے 2013 میں جوہری توانائی منصوبوں کی فنڈنگ بند کر دی تھی، جب کہ 2017 میں اس نے 2019 سے اپ اسٹریم تیل و گیس منصوبوں میں سرمایہ کاری بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم غریب ترین ممالک میں بعض گیس منصوبے اب بھی زیر غور رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پانچ لاکھ لیٹر جعلی دودھ کی لاہور میں سپلائی پکڑی گئی، 50 دودھ کی گاڑیاں بند، درجنوں پرچے درج
بجلی کی طلب میں اضافہ
اجے بانگا کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں 2035 تک بجلی کی طلب دوگنا ہو جائے گی، جس کے لیے موجودہ سالانہ سرمایہ کاری (280 ارب ڈالر) کو بھی دوگنا کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس میں پاکستان کی مزید تنزلی، مفتاح اسماعیل کا ہوشربا انکشاف
بورڈ میں اختلافات
ذرائع کے مطابق جوہری توانائی پر بورڈ میں اتفاق رائے نسبتاً آسانی سے ہوا تاہم جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے اپ اسٹریم گیس منصوبوں پر محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلاول کے پی میں پیپلزپارٹی کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش نہ کریں: بیرسٹر سیف
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی سے تعاون
بینک نے جوہری سلامتی، عدم پھیلاؤ اور ضوابطی فریم ورک کے لیے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) سے قریبی تعاون کا اعلان بھی کیا ہے۔
موجودہ ری ایکٹرز کی ترقی
مزید برآں، بینک موجودہ جوہری ری ایکٹرز کی مدتِ استعمال بڑھانے، گرڈ اپگریڈز، اور اسمال ماڈیولر ری ایکٹرز (SMRs) کی ترقی پر بھی کام کرے گا。








