دباؤ کے آگے جھکیں گے اور نہ ہی ایٹمی تحقیقات بند کریں گے: ایرانی صدر
ایرانی صدر کا مضبوط موقف
تہران(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہےکہ وہ نہ کسی دباؤ کے آگے جھکیں گے اور نہ ہی ایٹمی تحقیقات بند کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: جھوٹ بولنے کا کوئی فائدہ نہیں، 11 بجے ہسپتال جاتا، سب مل کر چائے پیتے، ایک ڈاکٹر ڈیوٹی پر رہتا اور “ہم رنگ” کھیلتے، ہارنے والی ٹیم چرغہ منگواتی
ایٹمی تحقیقات کی آزادی
نجی ٹی وی جیونیوزکے مطابق ایران کے صوبہ ایلام میں اجلاس سے خطاب کرتےہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ نہ تو دباؤ کے آگے جھکیں گے اور نہ ہی ایٹمی تحقیقات بند کریں گے، کسی بھی طاقت کو ہمیں سائنسی تحقیقات سے روکنے کا حق حاصل نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جنرل سید عاصم منیر کی فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی کا نوٹیفیکیشن جاری
مغربی دباؤ کا جواب
مسعود پزشکیان نے کہا کہ صنعت، طب اور زراعت وغیرہ کے لیے جوہری توانائی کے حصول کے لیے مغرب کی منظوری کا انتظار نہیں کریں گے، مغرب کوکس نے حق دیا کہ وہ ایرانی جوہری پروگرام رول بیک کرنےکامطالبہ کرے۔
یہ بھی پڑھیں: پرائز بانڈ جیتنے پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ
ایٹمی ہتھیاروں کی عدم موجودگی
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ سپریم لیڈر کے فرمان کے مطابق ہم ایٹمی ہتھیار ہرگز نہیں بنائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹام کروز کی مبینہ گرل فرینڈ کا پاکستان کے لیے خصوصی ویڈیو پیغام
بین الاقوامی ردعمل
دوسری جانب آج ہی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے جوہری عدم پھیلاؤ کی خلاف ورزی پر ایران کے خلاف قرارداد منظور کرلی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات امریکی قیادت میں آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے لیے تیار ہوگیا
سفارتی کشیدگی
یاد رہے ایران اورا مر یکہ اس وقت یورینیئم کی افزودگی کے معاملے پر شدید سفارتی کشیدگی کا شکار ہیں، ایران اور ا مر یکہ اپریل سے اب تک 5 بار مذاکرات کر چکے ہیں تاکہ 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کی جگہ ایک نیا معاہدہ کیا جا سکے۔
مذاکرات کا چھٹا دور
ا مر یکہ اور ایران کے جوہری مذاکرات کا چھٹا دور اتوار کو مسقط میں متوقع ہے۔








