دباؤ کے آگے جھکیں گے اور نہ ہی ایٹمی تحقیقات بند کریں گے: ایرانی صدر
ایرانی صدر کا مضبوط موقف
تہران(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہےکہ وہ نہ کسی دباؤ کے آگے جھکیں گے اور نہ ہی ایٹمی تحقیقات بند کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کرینہ کپور سے نکاح کیا تھا، وہ میری بیوی رہی ہیں، مفتی عبد القوی کا دعویٰ
ایٹمی تحقیقات کی آزادی
نجی ٹی وی جیونیوزکے مطابق ایران کے صوبہ ایلام میں اجلاس سے خطاب کرتےہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ نہ تو دباؤ کے آگے جھکیں گے اور نہ ہی ایٹمی تحقیقات بند کریں گے، کسی بھی طاقت کو ہمیں سائنسی تحقیقات سے روکنے کا حق حاصل نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کوٹ سبزل جاتا سارا راستہ سر سبز اور کھیتوں سے گزرتا ہے، واپسی پر اس ریسٹورنٹ سے کھانا کھایا جو لذیز کھانوں اور مٹھائی کی وجہ سے مشہور تھا۔
مغربی دباؤ کا جواب
مسعود پزشکیان نے کہا کہ صنعت، طب اور زراعت وغیرہ کے لیے جوہری توانائی کے حصول کے لیے مغرب کی منظوری کا انتظار نہیں کریں گے، مغرب کوکس نے حق دیا کہ وہ ایرانی جوہری پروگرام رول بیک کرنےکامطالبہ کرے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں کالعدم دہشت گرد تنظیم کا کارندہ گرفتار
ایٹمی ہتھیاروں کی عدم موجودگی
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ سپریم لیڈر کے فرمان کے مطابق ہم ایٹمی ہتھیار ہرگز نہیں بنائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: شانگلہ: آسمانی بجلی گرنے سے ایک ہی خاندان کے 3 افراد جاں بحق
بین الاقوامی ردعمل
دوسری جانب آج ہی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے جوہری عدم پھیلاؤ کی خلاف ورزی پر ایران کے خلاف قرارداد منظور کرلی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا مولانا فضل الرحمان کے بیٹے پر حملہ کرنے والے ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم
سفارتی کشیدگی
یاد رہے ایران اورا مر یکہ اس وقت یورینیئم کی افزودگی کے معاملے پر شدید سفارتی کشیدگی کا شکار ہیں، ایران اور ا مر یکہ اپریل سے اب تک 5 بار مذاکرات کر چکے ہیں تاکہ 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کی جگہ ایک نیا معاہدہ کیا جا سکے۔
مذاکرات کا چھٹا دور
ا مر یکہ اور ایران کے جوہری مذاکرات کا چھٹا دور اتوار کو مسقط میں متوقع ہے۔








