اچھی خاصی چلتی ریل کی پٹری کے سامنے یکدم دیو ہیکل اونچا پہاڑ آگیا، پانی کے دباؤ کے سامنے کچی مٹی کے پہاڑ بھی اپنی جگہ چھوڑ دیتے تھے۔
مصنف کا تعارف
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 155
یہ بھی پڑھیں: حکومت بلوچستان کا مستحق اور غریب خاندانوں کے لیے رمضان پیکج کا اعلان
پہاڑی سلسلے اور ریلوے لائن
جہلم سے آگے پہاڑی سلسلے شروع ہوتے تھے جو آگے چل کر پوٹھوہار کے خطے سے مل جاتے تھے۔ یہ سارا علاقہ کچے پکے پہاڑوں، سطح مرتفع اور گہرے برساتی نالوں پر مشتمل تھا۔ بارش میں جب پانی کا تیز ریلا آتا تو اپنے ساتھ سب کچھ بہا کر لے جاتا۔ پانی کے دباؤ کے سامنے کچی مٹی کے یہ پہاڑ بھی اپنی جگہ چھوڑ دیتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان دوسرا ٹی ٹوئنٹی میچ جاری
ریلوے پٹری کی بنیاد
یہاں پٹری کی بنیادیں قدرے بلند اور مضبوط پتھریلی سطح پر رکھی گئیں، کیونکہ بارشوں میں جب ندی نالے بپھر جاتے تو وہ پٹریوں کے نیچے سے زمین بھی بہا کر لے جاتے تھے۔ پٹری پر بچھائے گئے چھوٹے پتھر اور سلیپر وغیرہ بھی نیچے سے نکل جاتے اور یوں پٹری کمزور ہو کر ہواؤں میں لٹکنا شروع ہو جاتی اور گاڑیوں کی آمد و رفت کا سلسلہ موقوف ہوجاتا۔
یہ بھی پڑھیں: دیور نے بیوی کے ساتھ مل کر بھابی کو قتل کردیا، لاش کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ جان کر روح کانپ اٹھے
تاریخی پس منظر
ان ہی مشکلات کے مد نظر پہلے 1873ء میں جہلم اور راولپنڈی کے درمیان میٹر گیج کی چھوٹی پٹری بچھائی گئی تھی، تاہم 5 سال بعد ہی یعنی 1878ء میں اس کو ناقابل عمل قرار دے کر ہٹا دیا گیا اور اس کے جگہ براڈ گیج کی پٹری کو ہی جاری رکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف نے زرعی اور موسمیاتی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔
دلچسپ مقام: بکرالا ریلوے اسٹیشن
جہلم سے آگے اور سوہاوہ سے ذرا پہلے ترْکی قصبے سے بکرالا ریلوے اسٹیشن کے بیچ ایک دلچسپ مقام آتا ہے، جہاں ریل کو گزارنے کے لیے ایک لمبی دائرہ نما لوپ لائن بچھائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی اے کا منتخب یونیورسٹیوں کو 6 ماہ کیلئے مفت وائی فائی دینے کا اعلان
فنی چیلنجز
ہوا یوں تھا کہ اچھی خاصی چلتی ہوئی ریل کی پٹری کے سامنے یکدم ایک دیو ہیکل اونچا پہاڑ آگیا۔ گاڑی کو اس کے اوپر تک لے جانا مقصود تھا مگر وہاں کی بلندی کا زاویہ کچھ ایسا بن رہا تھا کہ پٹری کو سیدھا پہاڑ کے اوپر تک نہیں پہنچایا جا سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اظہر جاوید سماء ٹی وی پاکستان کے برطانیہ میں بیورو چیف مقرر
حل کی تلاش
تکنیکی طور پر ایک حد سے زیادہ لائن کی گریڈئینٹ کو اٹھایا نہیں جا سکتا تھا۔ اس لیے ضروری تھا کہ پٹری کو آہستہ آہستہ اوپر لے جایا جائے۔ اس کے لیے بھی اچھا خاصا لمبا راستہ درکار تھا جو اس پہاڑی علاقے میں ممکن نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کا احتجاج، آئی جی اسلام آباد کی ڈی چوک میں میڈیا سے گفتگو،اہم بیان جاری کردیا
لوپ لائن کی تعمیر
اور کوئی حل نہ پا کر یہ فیصلہ کیا گیا کہ پٹری کو دائرے کی شکل میں گھما کر اور اسے ایک لمبا لوپ دے کر آہستہ آہستہ اس کو اوپر اٹھایا جائے اور بالآخر یہ اس پہڑی چوٹی تک پہنچ جائے جہاں اس کو لے جانا مقصود تھا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان دوبارہ جنگ کے حوالے سے اہم انکشاف کر دیا
اسٹیشن کا منظر
یہاں بڑا ہی دلچسپ منظر ہوتا ہے جب نیچے آتی ہوئی ریل گاڑی دائرے میں ایک چکر کاٹ کر اوپر پہنچتی ہے تو اس سے نشیب میں اس کی وہ پٹری صاف نظر آتی ہے جہاں سے اس نے بلندی کی طرف اپنے بے معنی مگر ضروری سفر کی ابتداء کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت میں کتنی خواتین ملازمت کرتی ہیں؟ ڈیٹا سامنے آ گیا
راولپنڈی تک پہنچنا
جلد ہی یہ ریلوے لائن راولپنڈی پہنچ گئی، جو ایک بڑا شہر اور اہم فوجی چھاؤنی بھی تھا۔ یہاں ایک بڑا اور خوبصورت اسٹیشن بنایا گیا تھا جو پاکستان کے چند بہترین اسٹیشنوں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ یوں لاہور سے پشاور تک ریل کی پٹری بچھانے کے پہلے مرحلے پر کام مکمل ہو گیا۔
اٹک کی رکاوٹ
راولپنڈی سے پشاور کا راستہ قدرے آسان تھا، وہاں کوئی ایسے پہاڑی سلسلے بھی راہ میں حائل نہ تھے جہاں کوئی مشکل پیش آتی مگر ایک بڑی رکاوٹ آگے چل کر اٹک کے مقام پر پیش آنے والی تھی اور وہ تھا اٹک کے قریب دریائی سندھ پر ایک پل جو ابھی دور دور تک بنتا نظر نہیں آرہا تھا۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








