بھارت میں طیارہ حادثہ ایک سبق۔۔۔
تحریر
ایم حنیف گل
یہ بھی پڑھیں: آن لائن گیم کھیلتے ہوئے ماں، 2 بہنوں اور بھائی کو قتل کرنے والے مجرم کو سزا کا تفصیلی فیصلہ جاری
بھارت میں مسافر بردار طیارے کے حادثے کا افسوس
آج بھارت میں مسافر بردار طیارے کے حادثے پر دل بہت دکھی ہے۔ ہمارے پڑوس میں ایک دیس ہے جو ہم سے بہت بڑا ہے۔ اس میں ہم سے کہیں زیادہ انسان بستے ہیں۔ ان انسانوں میں مسلمانوں کی تعداد بھی کم وبیش پاکستان جتنی ہی ہے۔ انسانیت کو ٹکڑوں میں بانٹ کر جانچنا ایک ارفع معیار نہیں ہے لیکن مذہبی شناخت موت و حیات کا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ورنہ ہلاک ہونے والے کا جو بھی دھرم ہو اس کا غم برابر کا ہی ہونا چاہیے۔ ہونا چاہیے اور ہونا 2 مختلف چیزیں ہیں۔ بھارت میں ہندو کی جان کی قیمت اور حرمت مسلمان کی جان کی حرمت سے کہیں بلند ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان کے ساتھ مذاکرات میں خیبرپختونخوا کے اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی
زندگی کی قدر
آئین میں تو ہر جگہ برابری ہے لیکن تعصب، غصے اور انتقام کی آگ میں جتنا بھی آگے بڑھ جائیں زندگی بہرحال ایک قیمتی شے ہے۔ یہ انمول ہے چاہے کسی کی بھی ہو۔ یہ ایسی قیمتی چیز ہے جو ہر حال میں ہم سے چھین لی جائے گی۔ مستقبل کا تو پتہ نہیں لیکن طویل ماضی ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ زندگی مختصر ہے اور موت بر حق۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق کیس؛ وزیراعظم اور کابینہ ارکان کو توہین عدالت کے نوٹس جاری
انسانی المیہ
بھارت میں ایک لمحے میں اتنی قیمتی انسانی زندگیاں راکھ کا ڈھیر بن گئیں۔ سینکڑوں خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکے۔ جب انسانی تجربہ اتنی صداقت کے ساتھ زندگی کی بے ثباتی کا سبق سکھاتا ہے تو اکیسویں صدی میں بھی انسان جنگ کیوں چاہتا ہے؟ وہ لاکھوں انسانوں کو لقمۂ اجل بنانے کے لئے اتنا جلد باز کیوں ہے؟ کیوں معتبر ترین لوگ بھی ایٹمی جنگ کے ذریعے بھارت اور پاکستان کے ان لوگوں کو مارنا چاہتے ہیں جو غربت کے ہاتھوں پہلے ہی مرے ہوئے ہیں؟ شاید برصغیر کے باسیوں کی نفسیات میں ہی مرے ہوئے کو مارنا شامل ہے؟
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا لمبی اننگ کھیلنے کا ارادہ ہے، پی ٹی آئی مذاکرات چاہتی ہے تو اسمبلی آنا ہوگا، ایاز صادق
امن کی ضرورت
آج جب دونوں طرف کے لوگ انسانی سانحے پر سوگ منا رہے ہیں تو کیا اسی جذبے کو بروئے کار لاتے ہوئے کشیدگی کو ختم نہیں کیا جا سکتا؟ کیا یہ ضروری ہے کہ دونوں مفلوک الحال ملک بڑی طاقتوں کی پراکسی جنگ لڑیں؟ پاکستان جنگ نہیں چاہتا تو کیا محض کسی ’’طاقت‘‘ کے مفاد کے لیے جنگ لڑنا عقلمندی ہے؟
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل 10 کا فائنل آج ہوگا، لاہور قلندرز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں سخت مقابلہ متوقع
بہتر مستقبل کی امید
پاکستان اور بھارت کو سوچنا چاہیے، کیا پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش ایسی صورتحال پیدا نہیں کر سکتے جہاں سب کو سفر، تجارت، ملازمت اور سیر و تفریح کے لیے آنے جانے کی سہولت میسر ہو؟ اس انسانی المیے سے جو بھارت میں ہوا ہے اگر امن اور بھائی چارے کی صورت نکل آئے تو یہ ان لوگوں کے لیے بہت بڑا خراج تحسین ہو گا جن کی موت کا غم ہم مل کر منا رہے ہیں۔
نوٹ
ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں








