ایئر انڈیا حادثہ: جہاز کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ترک کمپنی کے سپرد ہونے کا بھارتی دعویٰ جھوٹا نکلا
حادثے کا شکار بھارتی طیارہ
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) احمدآباد میں حادثے کا شکار ہونے والے بھارتی طیارے کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ترک کمپنی کے سپرد ہونے کا بھارتی دعویٰ جھوٹا نکلا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدارتی انتخابات، ٹرمپ نے 232 اور کملا ہیرس نے 198 الیکٹورل ووٹ لے لئے
طیارے کی تباہی
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق جمعرات کو بھارتی شہر احمد آباد میں لندن جانے والا ایئر انڈیا کا طیارہ پرواز کے چند لمحے بعد گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار 241 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ ایک مسافر معجزانہ طور پر زندہ بچ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلوی کرکٹ ٹیم نے عالمی ریکارڈ بنا دیا
سوشل میڈیا پر گمراہ کن دعوے
احمد آباد میں ایئر انڈیا کے طیارے کے حادثے کے بعد بھارتی صارفین کی جانب سے سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ ترک کمپنی 'ترکش ٹیکنک' کے زیرِ نگرانی مرمت کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بھی مونکی پاکس کا خطرہ، جنرل ہسپتال میں پہلا مریض رپورٹ ہوگیا
ترک خبر رساں ایجنسی کی وضاحت
تاہم ترک خبر رساں ایجنسی کی فیکٹ چیک لائن نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔ حادثے کے بعد بھارت کی جانب سے سوشل میڈیا پر متعدد گمراہ کن ویڈیوز اور تصاویر گردش کرنے لگیں جن میں طیارے کی ترک کمپنی 'ترکش ٹیکنک' سے دیکھ بھال اور مرمت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوبر رجب بٹ کی گرفتاری سے متعلق محکمہ وائلد لائف کی بڑی نااہلی بھی سامنے آگئی
طیارے کی نوعیت اور مرمت کا معاہدہ
ترک خبر رساں ایجنسی کے مطابق حادثے کا شکار طیارہ بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر تھا، جبکہ جو تصاویر ترکش ٹیکنک کے ہینگرز (جہاں جہازوں کی مرمت یا سروسنگ کی جاتی ہے) کے ساتھ شیئر کی جا رہی تھیں ان میں بوئنگ 777 طیارے دکھائے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی فوری ختم کی جائے، پاکستان کا سلامتی کونسل میں مطالبہ
معاہدے کی تفصیلات
ترکش ٹیکنک کی 9 اپریل کی انسٹاگرام پوسٹ کے مطابق، کمپنی کا ایئر انڈیا سے معاہدہ صرف بوئنگ 777 طیاروں کی مکمل بیس مینٹیننس کا ہے، جس کے تحت یہ طیارے استنبول میں مرمت کیے جاتے ہیں۔
ایئر انڈیا اور ترکش ٹیکنک کے تعلقات
ذرائع کے مطابق ایئر انڈیا اور ترکش ٹیکنک کے درمیان معاہدہ صرف بوئنگ 777 طیاروں تک محدود ہے اور ان طیاروں کی سروسنگ میں کسی قسم کا مسئلہ پیش نہیں آیا۔








