بی جے پی اندرونی خلفشار کا شکار، نظریاتی دھڑوں میں تقسیم، نئی قیادت کی تلاش شروع: ’’ دی ویک میگزین ‘‘ کے تہلکہ خیز انکشافات
بھارتیہ جنتا پارٹی کے اندرونی خلفشار
لاہور ( طیبہ بخاری سے ) بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اندرونی خلفشار کا شکار اور نظریاتی دھڑوں میں تقسیم ہونا شروع ہوگئی۔ اس حوالے سے بھارت کے "دی ویک میگزین" نے تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آج جمہوریت کو بادشاہت میں تبدیل کردیا گیا، چیئرمین پی ٹی آئی
بی جے پی کی داخلی حالت

بھارتی میڈیا کے مطابق "یہ صورتحال پارٹی کے اتحاد پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہی ہے، بی جے پی کی موجودہ داخلی حالت بھارت کی سیاسی سمت کو بھی غیر یقینی بنا رہی ہے۔ پارٹی کے صدر جے پی نڈا کی مدت صدارت ختم ہونے کو ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کے ذریعے فساد کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی: عظمٰی بخاری
مفاہمت کی کوششیں

بھارت کے "دی ویک میگزین" کے مطابق "اگر بی جے پی اپنی قیادت کو جنوبی بھارت سے لانے پر غور کر رہی ہے تو مرکزی وزیر جی کشن ریڈی اور مہیلا مورچہ کی صدر وناتھی سری نواسن ممکنہ امیدوار ہو سکتے ہیں۔ پارٹی کے اندرونی حلقوں میں سنیل بنسل، ونود تاوڑے اور دشینت گوتم سمیت کئی دیگر نام بھی زیرِ غور ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں ہراسمنٹ سے پاک ماحول کیلیے بڑا قدم اٹھا لیا گیا
تنظیمی چیلنجز

بھارتی میڈیا کے مطابق "موجودہ بی جے پی صدر نڈا کے پاس صحت کی وزارت کے ساتھ ساتھ پارٹی ذمہ داریاں بھی ہیں جو تنظیمی ڈھانچے کو متاثر کر رہی ہیں، نئی قیادت کی تلاش نے بی جے پی کے اندرونی اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: لوگ عمر کے بارے میں غلط اندازے لگاتے ہیں: جیا علی
نظریاتی اختلافات

پارٹی کے اندر مختلف گروہ مختلف نظریات اور مفادات کے ساتھ سرگرم ہیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ کے حامی چاہتے ہیں کہ اتر پردیش جیسی بڑی ریاست میں ان کا اثر قائم رہے جبکہ ہندوتوا نظریئے کے شدت پسند حلقے سخت گیر قیادت کے خواہاں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: واپس مڑے سب کو آواز دی، جس کو جہاں جگہ ملی سر چھپانے میں عافیّت جانی ”تم میں کوئی مرد نہ تھا وہاں اُنکا مقابلہ کرتے“ شرمندگی مقدّر بن چکی تھی۔
غیر اعلانیہ نظریاتی کشمکش

بھارتی میڈیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ "بی جے پی کا لبرل حلقہ معتدل اور عالمی سطح پر قابل قبول چہرے کی حمایت کر رہا ہے، یہ تضادات بی جے پی کے اندر ایک غیر اعلانیہ نظریاتی کشمکش کی غمازی کرتے ہیں۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اس پورے عمل میں بظاہر خاموش ہے۔ اتر پردیش، گجرات اور مدھیہ پردیش جیسی اہم ریاستوں میں پارٹی نے تاحال نئے صدور کا اعلان نہیں کیا۔ ان ریاستوں میں ذات پات، علاقائی سیاست اور اندرونی کشمکش فیصلوں میں رکاوٹ ہے۔"
سیاسی مبصرین کی رائے

سیاسی مبصرین کہہ رہے ہیں کہ "بی جے پی قیادت کا بحران بھارت کے سیاسی نظام کی کمزوریوں کو اجاگر کرتا ہے، بی جے پی کا موجودہ بحران محض تنظیمی مسئلہ نہیں بلکہ ایک گہرا نظریاتی تصادم ہے۔"








