ہم دیوار میں انگلی سے سوراخ کرنے کے عادی لوگ ہیں، میں نے کہا ”پبلک سروس کمیشن کا امتحان دیکر یہاں پہنچا ہوں، آئندہ گفتگو میں محتاط رہیے گا“۔
مصنف کی تفصیلات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 198
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کی ہدایت پر ڈسکوز سپورٹ یونٹس کی کارروائیاں، 289 مقامات پر بجلی چوری پکڑی گئی، مقدمات درج
کوٹلہ قاسم خاں کا قصہ
کچھ ماہ بیتے تو ڈی سی گجرات رانا شوکت کو پھر سے کھلی کچہری اور زکوٰۃ فنڈ سے تعمیر کئے جانے والے کواٹروں کے معائنہ کی سوجھی۔ اس بار ان کا رخ کوٹلہ قاسم خاں یونین کونسل تھی۔ لالہ موسیٰ شہر سے 5 کلو میٹر کی مسافت پر۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل اور ایران لڑائی روک کر جوہری مذاکرات دوبارہ کریں: انتونیو گوتریس
اکھٹے کا ماحول
چوہدری اختر خاں چیئرمین یونین کونسل کوٹلہ قاسم خاں دنیا دار آدمی تھے جبکہ بابا محمد اسلم آر ڈی ڈبلیو وہاں سیکرٹری تھا۔ بھلے مانس، زندہ دل اور شریف انسان۔ (اسلم ماشاء اللہ حیات ہے اور عمر کی 49 بہاریں دیکھ چکا ہے۔ اللہ اسے صحت والی زندگی دے۔ آمین۔)
یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ کے متاثرین کے نقصانات کا ازالہ ہوگا: ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید
کواٹر کا معاملہ
یہاں زکوٰۃ کواٹر بہت اچھی لوکیشن پر تعمیر ہوئے تھے۔ آبادی کے نزدیک۔ ڈی سی یہاں کسی شخص کو کواٹر دلوانا چاہتے تھے اور راجہ یعقوب کے ذریعے کواٹر الاٹ کرنے کا پیغام مجھ تک پہنچ چکا تھا۔ میرے جواب بھی اسی ذریعہ سے ان تک انکار کی صورت پہنچ گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے خلاف جنگ نہ تو منصفانہ عالمی نظام کا سبب بنے گی، نہ تنخواہوں میں اضافہ ہوگا: سپین
تقریر کا جواب
تقریر ختم ہوئی تو چائے پر میں نے ان سے کہا؛ "سر! نہ تو میں پٹواری ہوں اور نہ ہی سیکرٹری یونین کونسل اور نہ ہی آپ کے ماتحت ہوں۔ میں اچھے گھر سے ہوں اور پبلک سروس کمیشن کا امتحان دے کر یہاں پہنچا ہوں۔ آئندہ گفتگو میں محتاط رہیے گا۔ ضلع کے سب سے بڑے افسر ہونے کے ناطے آپ زکوۃ کواٹر خود الاٹ کر دیں۔"
یہ بھی پڑھیں: وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا مصر ی ہم منصب کو ٹیلیفون، خطے کی بدلتی صورتحال پر تبادلۂ خیال
راجہ یعقوب کا مشورہ
ڈی سی کے لئے یہ نئی بات تھی۔ وہ کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ راجہ یعقوب صاحب نے اُن کا کندھا دبا دیا۔ شام کو میں راجہ صاحب سے ملنے ان کے گھر گجرات چلا آیا اور کہا؛ "سر! ڈی سی صاحب کو سمجھا دیں اس کی طرح کی لوز گفتگو انہیں زیب نہیں دیتی۔" انہوں نے مجھے سمجھایا کہ "شہزاد! ہر طرح کے افسروں سے زندگی میں پالا پڑے گا کس کس سے لڑو گے۔ میں جانتا ہوں تم کچھ کر سکتے ہو گے لیکن بیٹا نوکری کرنا سیکھو۔"
یہ بھی پڑھیں: ہماری تیاری اچھی، ایک میچ جیتنے کا مطلب برتری نہیں: بھارتی کپتان
سفارش کا اثر
اس زمانے میں بھائی جان شہزاد (وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ان کے بڑے دوست تھے) کی سفارش سے ڈی سی کی ٹرانسفر کرا سکتا تھا۔ ان سے بات کی تو انہوں نے بھی مجھے وہی سمجھایا جو بات راجہ یعقوب صاحب نے سمجھائی تھی۔ کہنے لگے؛ "آج تو میں ڈی سی ٹرانسفر کرا دوں گا۔ تمھیں نوکری کرنا آئے گی نہیں کل کیا کرو گے۔"
یہ بھی پڑھیں: عدالت کا کام معاشی پالیسیوں میں مداخلت کرنا نہیں، وکیل ایف بی آر
سبق والد کا
میں ساری عمر ابا جی کا بتایا یہ سبق یاد رکھا؛ "پتر! تیرے اور دوسرے کے کام میں فرق ہونا چاہیے۔ وقت پر دفتر نہیں آؤ گے تو کسی کو وقت پر آنے کا کہہ بھی نہیں سکو گے۔ تمھیں خود کام نہیں آتا ہو گا تو دوسروں سے کام لے بھی نہیں سکو گے اور نہ ہی سپر وائیز کر سکو گے۔ کسی چٹھی پر بغیر پڑھے دستخط مت کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا کہ جس زبان میں بھی چٹھی لکھو اس میں ہجے کی غلطیاں نہ ہوں۔ غلطی ہو جائے تو تسلیم کر لینا لیکن غلطی دھرانا مت۔۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔








