اسرائیلی حملوں میں امریکہ برابر کا شریک ہے، اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا: ایرانی وزیر خارجہ
ایرانی وزیر خارجہ کا بیان
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے حملوں میں امریکہ برابر کا شریک ہے اور اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: 7 سال کے بعد سندھ باسکٹ بال ایسوسی ایشن کے کامیاب انتخابات، خالد جمیل شمسی چیئر مین اور غلام عباس جمال صدرمنتخب
جوابی حملہ اور بین الاقوامی قوانین
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ اسرائیل پر جوابی حملہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنے دفاع میں کیا، ایران نے اسرائیل کے فوجی اور اقتصادی اہداف کو نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ خضدار، معصوم اور بے گناہ بچوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا: وزیر اعلیٰ مریم نواز
امریکہ کی شمولیت کا الزام
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ایران کو مکتوب بھیج کر اسرائیلی حملے میں شریک نہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے، اسرائیل کے حملوں میں امریکہ برابر کا شریک ہے اور اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا، عالمی برادری ایران پر جاری اسرائیلی حملوں کی مذمت کرے۔
یہ بھی پڑھیں: دو ماہ سے معطل، معافی نامہ دفتر کو موصول، ناک کی لکیریں دفتر آ کر نکالیں، بہاول پور ضلع کے سب سیکرٹریز کو ضلع کونسل ہال میں جمع کیا گیا
خطرناک حملے کا ذکر
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ فارس گیس فیلڈ پر اسرائیل کا حملہ خطرناک عمل تھا، ایران پر اسرائیلی حملہ امریکہ کی آشیرباد کے بغیر ناممکن تھا، امریکہ کی اسرائیلی حملوں کی پشت پناہی کے ثبوت موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزرائے داخلہ کا دورہ لاہور ایئرپورٹ، کسی کو بلاجواز نہیں روکا جائے گا: محسن نقوی
ایران کا دفاع کا حق
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے خلاف جنگ کو ایران دیگر ممالک تک توسیع کرنے کا خواہاں نہیں لیکن اگر مجبور کیا گیا تو ایران جنگ کو دیگر ممالک تک بڑھانے پر غور کرسکتا ہے، ایران اپنا دفاع کر رہا ہے جو اس کا اصولی حق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھوک، بھیک اور جرم کو جنم دیتی ہے، انسان جب سمندر کی موجوں کے تھپیڑے کھا رہا ہوتا ہے تو صرف اپنی جان کی فکر ہوتی ہے کپڑے لٹّے کی نہیں ہوتی
ایٹمی توانائی ایجنسی کا کردار
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو ایران کے نطنز reactor پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرنی چاہیے، ایران کسی ایسے معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا جو اسے جوہری توانائی کے حصول سے روکے، اسرائیل نے اہم ایرانی عہدیدار شہید کرکے جوہری مذاکرات سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، یورینیم کی افزودگی 60 فیصد سے زیادہ کرنے کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: مرتضیٰ وہاب نے ایم کیو ایم کو مستقل قومی مصیبت قرار دے دیا
امریکی صدر کی دھمکی
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ پر حملہ کیا تو اس کی افواج پوری قوت کے ساتھ جواب دیں گی۔ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اسرائیل کے ایران پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس حملے میں امریکہ کا کوئی کردار نہیں ہے۔
امریکہ کی طاقت کا ذکر
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ہم پر ایران کی طرف سے کسی بھی طرح کا حملہ کیا گیا تو امریکی مسلح افواج پوری طاقت سے اس سطح کا حملہ کریں گی جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔








