اسرائیلی حملوں میں امریکہ برابر کا شریک ہے، اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا: ایرانی وزیر خارجہ
ایرانی وزیر خارجہ کا بیان
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے حملوں میں امریکہ برابر کا شریک ہے اور اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: چیمپئنز ٹرافی کیلئے پاکستان کیوں نہیں آرہے؟ مداح کے سوال پر سوریا کمار نے کیا جواب دیا؟
جوابی حملہ اور بین الاقوامی قوانین
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ اسرائیل پر جوابی حملہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنے دفاع میں کیا، ایران نے اسرائیل کے فوجی اور اقتصادی اہداف کو نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کا کریک ڈاؤن، متعدد کشمیری گرفتار
امریکہ کی شمولیت کا الزام
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ایران کو مکتوب بھیج کر اسرائیلی حملے میں شریک نہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے، اسرائیل کے حملوں میں امریکہ برابر کا شریک ہے اور اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا، عالمی برادری ایران پر جاری اسرائیلی حملوں کی مذمت کرے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہوریوں کے لیے مریم نواز کا تحفہ، 13 اگست کو لبرٹی چوک میں میوزیکل کنسرٹ کا انعقاد
خطرناک حملے کا ذکر
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ فارس گیس فیلڈ پر اسرائیل کا حملہ خطرناک عمل تھا، ایران پر اسرائیلی حملہ امریکہ کی آشیرباد کے بغیر ناممکن تھا، امریکہ کی اسرائیلی حملوں کی پشت پناہی کے ثبوت موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف کارروائیاں تیز، مزید ۱۹۹۷۵ افراد گرفتار
ایران کا دفاع کا حق
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے خلاف جنگ کو ایران دیگر ممالک تک توسیع کرنے کا خواہاں نہیں لیکن اگر مجبور کیا گیا تو ایران جنگ کو دیگر ممالک تک بڑھانے پر غور کرسکتا ہے، ایران اپنا دفاع کر رہا ہے جو اس کا اصولی حق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک زوردار دھماکے سے میرا گھر ہل کر رہ گیا اور اس سے پہلے کہ ہمیں اندازہ ہوتا کہ ۔ ۔ ۔” بھارت کا پاکستان میں حملہ، آزاد کشمیر کے شہری نے آپ بیتی سنادی
ایٹمی توانائی ایجنسی کا کردار
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو ایران کے نطنز reactor پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرنی چاہیے، ایران کسی ایسے معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا جو اسے جوہری توانائی کے حصول سے روکے، اسرائیل نے اہم ایرانی عہدیدار شہید کرکے جوہری مذاکرات سبوتاژ کرنے کی کوشش کی، یورینیم کی افزودگی 60 فیصد سے زیادہ کرنے کا عمل جاری رکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: نسیم شاہ ایک بات ذہن نشین رکھیں، یہاں بیٹ گھمانے کی آزادی ہے مگر زبان گھمانے پر پابندی ہے، سینیٹر حافظ حمداللہ
امریکی صدر کی دھمکی
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ پر حملہ کیا تو اس کی افواج پوری قوت کے ساتھ جواب دیں گی۔ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اسرائیل کے ایران پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس حملے میں امریکہ کا کوئی کردار نہیں ہے۔
امریکہ کی طاقت کا ذکر
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ہم پر ایران کی طرف سے کسی بھی طرح کا حملہ کیا گیا تو امریکی مسلح افواج پوری طاقت سے اس سطح کا حملہ کریں گی جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔








