لاہور سے روس کیلئے 22 جون سے کارگو ٹرین سروس شروع کی جائے گی، وزیر ریلوے

پاکستان کی پہلی مال بردار ٹرین سروس

ملتان(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان روس کیلئے پہلی مال بردار ٹرین سروس 22جون کو لاہور سے شروع کرے گا جو علاقائی رابطوں اور بین الاقوامی تجارت میں توسیع کیلئے ایک اہم قدم ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر ریلوے حنیف عباسی نے ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

یہ بھی پڑھیں: نومولود بیٹی کو قتل کرنے پر جوڑے کو 17، 17 سال قید کی سزا

نئی فریٹ سروس کی اہمیت

حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ نئی فریٹ سروس پاکستان ریلویز کو جدید بنانے اور وسیع لاجسٹکس آپریشنز کے ذریعے ریونیو بڑھانے کے وسیع تر اقدام کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ حمیرا اصغر نے موت سے قبل 7 جولائی کو 10 افراد کو پیغامات بھیجے لیکن کسی نے جواب نہیں دیا : اقرار الحسن

علاقائی انضمام کی کوششیں

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ وزیراعظم شہبازشریف کے وسیع تر علاقائی انضمام کی کوششوں کے حصے کے طور پر پاکستان کے ریل نیٹ ورک کو وسطی ایشیائی ممالک بشمول ازبکستان اور قازقستان سے جوڑنے کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم صرف ریلوے نہیں بلکہ اقتصادی راہداری بنا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران میں جاسوسی کے الزام میں 10غیر ملکی گرفتار

سروس کا روٹ اور آپریشنل تفصیلات

حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ روٹ انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور کی مشرقی برانچ کو استعمال کرے گا، جو 14 سے 19 دنوں کے درمیان تیز ترین ٹرانزٹ آپشن پیش کرتا ہے جو پاکستان کو ایران، ترکمانستان، قازقستان اور آخر کار جنوبی روس سے ملاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اب مہنگائی کم ہے مگر 38 فیصد پر بھی کون لے کر گیا؟ مفتاح اسماعیل نے حکومت سے سوال پوچھ لیا

مالیاتی اور لاجسٹک تفصیلات

پاکستان ریلویز کے سینئر حکام کے مطابق مال بردار ٹرین لاہور سے روانہ ہوگی اور 2001 کلومیٹر فاصلہ طے کرکے ایران کے ساتھ تفتان بارڈر کراسنگ تک پہنچے گی۔ وہاں سے ریل گیج میں تبدیلی کی وجہ سے کارگو کو جنوب مشرقی ایران میں زاہدان کے مقام پر ایک اور ٹرین میں منتقل کیا جائے گا۔ اس کے بعد یہ سفر ایران ترکمانستان سرحد پر سارخ سے ہوتا ہوا بولاشک، اکتاوکوریڈور کے ذریعے قازقستان میں داخل ہوگا اور قازقستان سے یتیراو سے ہوتا ہوا جنوبی روس میں ایک اہم لاجسٹک مرکز آسٹرا خان میں اپنی آخری منزل پہنچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پورا راستہ تقریباً 8,000 کلومیٹر پر محیط ہے، جس میں متوقع ٹرانزٹ ٹائم 20-25 دن ہے، بشمول بفر پیریڈز۔

یہ بھی پڑھیں: موجود حالات کے پیش نظر پاکستان اور بھارت نے ایشیاء کپ کھیلنے سے منع کیا تو۔۔۔؟سنیل گواسکر نے اہم سوال اٹھا دیا

آپریشنل کارکردگی اور ٹرانسپورٹ کا بنیادی ڈھانچہ

ریلوے حکام کا مزید کہنا تھا کہ اس راستے کا انتخاب اس کی آپریشنل کارکردگی کے لیے کیا گیا تھا اور ٹرانسشپمنٹ کا بنیادی ڈھانچہ قائم کیا گیا تھا۔ اہلکار نے وضاحت کی کہ ریلوے گیجز ترکمانستان، قازقستان اور روس میں ہم آہنگ ہیں، بغیر کسی رکاوٹ کے نقل و حرکت کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت کو شرعی عدالت منتقل کرنے کا بڑا فیصلہ، نوٹیفکیشن جاری

مال برداری کے حجم اور باہمی تجارت

پہلے مرحلے میں 156 TEUs (بیس فٹ کے مساوی یونٹ) ہوں گے، برآمد کنندگان تقریباً 500 ٹن کارگو کی تصدیق کریں گے۔ 31 TEUs کے مکمل بوجھ تک توسیع کرنے کے منصوبے جاری ہیں، مال برداری کے نرخوں کو حتمی شکل دینے تک۔

دو طرفہ تجارت پر اثرات

روس کو پاکستان کی بڑی برآمدات میں چمڑے کے ملبوسات، الیکٹرو میڈیکل ڈیوائسز اور ٹیکسٹائل شامل ہیں جبکہ اہم درآمدات میں گندم، کھاد، خشک سبزیاں اور پیٹرولیم مصنوعات شامل ہیں۔ ٹرانزٹ ٹائم میں کمی اور براہ راست ریل رابطے سے دو طرفہ تجارت کو نمایاں فائدہ ہونے کی امید ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...