برطانوی صحافی کی ایران کو قصور وار ثابت کرنے کی کوشش، ایرانی پروفیسر محمد مرندی نے کرارا جواب دیدیا
ایرانی پروفیسر کا برطانوی صحافی کو جواب
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) برطانوی ٹی وی کی صحافی کی ایران کو قصور وار ثابت کرنے کی کوششوں پر ایرانی پروفیسر محمد مرندی نے کرارا جواب دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی افریقہ دوسرے ٹیسٹ میچ میں سری لنکا کو شکست دے کر ٹیسٹ چیمپئن شپ میں نمبر ون بن گیا
مذاکرات کا سوال
جنگ کے مطابق برطانوی صحافی نے سوال کیا کہ ایران کب واپس مذاکرات کی میز پر آئے گا، کیا ایران ٹرمپ کی پیش کش قبول کرے گا؟
یہ بھی پڑھیں: Israel Strikes Beirut Again with Powerful Air Bombs
پروفیسر مرندی کا موقف
ایرانی پروفیسر محمد مرندی نے جواب دیا کہ آپ کے چینل کو اچھے سے معلوم ہوگا کہ ایران مذاکرات ہی کررہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ساتھ مل کر حملے کی سازش کی، آپ کس طرح حقائق کو مسخ کرتے ہیں، کچھ تو دیانت سے کام لیں۔
یہ بھی پڑھیں: شوکت محمود بٹ اور محمد فہد شوکت کی جانب سے حاجی نور محمد حال مقیم UK کے اعزاز میں عشائیہ
صحافی کی دعوت کا اثر
پروفیسر محمد مرندی نے کہا کہ آپ کو مجھے نہیں بلانا چاہیے تھا کیونکہ آپ آسانی سے بے نقاب ہو رہے ہیں، ایران مذاکرات کر رہا تھا، ابتدا میں ٹرمپ ایک پوزیشن پر تھے اور پھر انہوں نے قلابازی کھائی اور کہا افزودگی کی اجازت نہیں اور پھر مذاکرات جاری رکھے۔
ٹرمپ کا متضاد بیان
پروفیسر محمد مرندی نے کہا کہ ایران پر حملے کی رات سے پہلے ٹرمپ نے کہا ہم جنگ نہیں چاہتے اور حملے کے بعد ٹرمپ نے کہا ہم لڑیں گے۔








