ایران پر حملے میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی توقع تھی لیکن کوئی اور راستہ نہیں تھا” سی این این سے گفتگو میں اسرائیلی وزیر خارجہ کا اعتراف
اسرائیل کے وزیر خارجہ کا بیان
تل ابیب (ڈیلی پاکستان آنلاین) اسرائیل کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت کو ایران پر کیے گئے حملے کے بعد عام شہریوں کی ہلاکتوں کی پیشگی توقع تھی، مگر اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو لیڈ کرنے کے لیے ایک خلیفہ آنے والا ہے، اس کی عمر 45 سال ہو گی اور اس کا تعلق بنو ھاشم سے ہوگا، آفتاب اقبال کا دعویٰ
مشکل فیصلے کا اعتراف
اتوار کے روز سی این این کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں وزیر خارجہ نے کہا جب ہم نے یہ تاریخی اور سخت فیصلہ کیا، تو ہمیں علم تھا کہ مشکل وقت آئے گا اور جانی نقصان بھی ہوگا، لیکن پھر بھی ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اورکزئی: سیاحوں کی گاڑی کھائی میں گرنے سے 3 افراد جاں بحق
ایران کی جوابی کارروائی
یاد رہے کہ ایران کی جوابی کارروائی میں اسرائیل میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں تین بچے بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے مظاہرین کی ایکسپریس وے اسلام آباد پر پرتشدد کارروائیوں کی ویڈیو منظر عام پر آگئی
ایران کے جوہری پروگرام کا خطرہ
اسرائیلی وزیر خارجہ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام اس سطح پر پہنچ چکا ہے کہ وہ چھ ماہ میں ایٹم بم بنا سکتا ہے اور اس وقت ایران کے پاس اتنی افزودہ یورینیم موجود ہے کہ وہ نو ایٹمی ہتھیار تیار کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ مودی سرکار کے دوہرے معیار پر برس پڑے۔
حکومت کی تبدیلی کا سوال
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا اسرائیل کی حالیہ کارروائی کا مقصد ایران میں حکومت کا تختہ الٹنا ہے، تو وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارا مقصد حکومت کی تبدیلی نہیں ہے، یہ فیصلہ ایرانی عوام کو کرنا ہے، ہم ایرانی عوام کو اپنا دشمن نہیں سمجھتے۔
امریکی امداد کا شکریہ
انہوں نے امریکہ کا فوجی امداد فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا، مگر یہ بھی کہا کہ ایران کے فوجی اثاثے تباہ کرنے کے لیے امریکہ براہِ راست شریک ہو یا نہ ہو، یہ ان کا "خودمختار فیصلہ" ہے۔








