ٹرمپ نے ایران کے رہبر اعلیٰ خامنہ ای کی جان بچالی، روئٹرز کا دعویٰ
ٹرمپ کا اسرائیل کے خفیہ منصوبے پر فیصلہ
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) خبر رساں ادارے روئٹرز نے دو اعلیٰ امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کا وہ خفیہ منصوبہ روک دیا تھا، جس کے تحت ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کیا جانا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹانک میں سکیورٹی فورسز کا “فتنہ الخوارج” کے خلاف خفیہ اطلاعات پر آپریشن، 8 دہشتگرد ہلاک
ایرانی رہنما کو نشانہ بنانے کا منصوبہ
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے ایران کے خلاف اپنی عسکری کارروائیوں کے دائرے کو وسعت دیتے ہوئے ایک ایسا "موقع" تلاش کیا تھا جس میں خامنہ ای کو نشانہ بنایا جا سکتا تھا۔ لیکن ٹرمپ نے اس منصوبے کو مسترد کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ کے دونوں مستعفی ججز کے نام ای سی ایل میں ڈالنے پر غور کیا جا رہا ہے، مبشر لقمان کا دعویٰ
ٹرمپ کا موقف
ایک سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق، ٹرمپ نے واضح طور پر پوچھا "کیا ایرانیوں نے کسی امریکی کو مارا ہے؟ نہیں۔ جب تک وہ ایسا نہیں کرتے، ہم ایران کی سیاسی قیادت کو نشانہ بنانے پر بات بھی نہیں کریں گے۔"
یہ بھی پڑھیں: پشاور: پولیس موبائل پر خودکش حملہ، اے ایس آئی سمیت 2 اہلکار شہید، 3 زخمی
نیتن یاہو اور ٹرمپ کی گفتگو
ذرائع کے مطابق ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران متعدد بار بات چیت ہوئی ہے۔ تاہم جب فاکس نیوز نے نیتن یاہو سے اس رپورٹ پر سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا "ایسی بہت سی جھوٹی رپورٹس آتی رہتی ہیں، جن میں ایسی بات چیت کا ذکر ہوتا ہے جو کبھی ہوئی ہی نہیں۔ میں ان باتوں میں نہیں پڑوں گا، مگر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہم وہی کریں گے جو ہمیں کرنا ہے، اور مجھے یقین ہے کہ امریکہ کو بھی اپنا مفاد معلوم ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: مناہل ملک فحش ویڈیو لیک ہونے کے بعد بھارت میں مقبول ہو گئیں
اسرائیلی حکمت عملی میں تبدیلی
اس سے قبل وال اسٹریٹ جرنل نے ایک اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے بتایا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانا اب "ممنوعہ دائرے" میں نہیں رہا۔ اسرائیل کی حکمت عملی میں تبدیلی آ چکی ہے، جو پہلے صرف ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے تک محدود تھی، اب ایرانی قیادت کو بھی ہدف بنایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عادل بازئی نااہلی کے بعد این اے 262 کوئٹہ کے ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری
آپریشن رائزنگ لائن
رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے ’آپریشن رائزنگ لائن‘ کے تحت کم از کم 9 ایرانی جوہری سائنسدانوں اور کئی اعلیٰ فوجی افسران کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ان میں سے ایک حملے کے نتیجے میں ایران کی نتنز یورینیم افزودگی تنصیب کو شدید نقصان پہنچا تھا اور وہاں عمارت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا تھا۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی
یہ انکشافات ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور خطے میں ممکنہ جنگ کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔








