ایران، اسرائیل کشیدگی: امریکی صدر ٹرمپ نے کس رہنما کو بطور ثالث قبول کرنے کا اشارہ دیدیا؟ جانیے
امریکہ کی ثالثی کی پیشکش
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لئے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اہم رہنما کو بطور ثالث قبول کرنے کا اشارہ دیدیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فضائی اور میزائل دفاع میں 400 فیصد اضافے کی ضرورت ہے، نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے خبردار کردیا
روس کی مداخلت
تفصیلات کے مطابق، روس نے ایران اور اسرائیل کی کشیدگی کم کرانے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی ہم منصب پیوٹن کو بطور ثالث قبول کرنے کا اشارہ دیدیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آج ہم سب نشانے پر ہیں، ہمارے خلاف منصوبے بنتے ہیں: سلمان اکرم راجہ
صدر ٹرمپ کا بیان
ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اس وقت ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کا حصہ نہیں ہے لیکن ممکن ہے کہ وہ اس میں شامل ہو جائے۔
اردوان کا کردار
دوسری جانب، ترک صدر طیب اردوان کی بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی ہے جس میں دونوں صدور نے ایران اور اسرائیل کے تنازع پر تبادلۂ خیال کیا۔ ترک صدر نے ٹرمپ سے خطے کو آگ میں دھکیلنے والی تباہی روکنے کے لیے فوری اقدام کرنے کا مطالبہ کیا۔








