فیصل آباد کے نوجوان لڑکے اور لڑکی کو مردان میں قتل کر دیا گیا
خواتین کے خلاف غیرت کے نام پر قتل
مردان (ویب ڈیسک) خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے مولانا کلی فاطمہ میں فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے اشارہ کیا، نریندر سرینڈر، مودی نے جی حضور کہہ کر تعمیل کردی، راہول کی تنقید
قتل کی تفصیلات
پولیس کو دی گئی ایف آئی آر کے مطابق مقتول شخص کے بھائی مظہر اقبال نے بتایا کہ اس کا 51 سالہ بھائی ظفر اقبال کئی سال بعد فیصل آباد سے مردان واپس آیا تھا۔ اس کے ہمراہ اس کی بیوی فرزانہ عرف گل بی بی، عمر 40 سال، بھی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بڑی پیشرفت، نیب نے لیگل ٹیم تشکیل دے دی
حملے کا بیان
مظہر اقبال نے بیان دیا کہ یہ جوڑا اس کے گھر موجود تھا جب ملزمان نے زبردستی گھر میں داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں اس کا بھائی اور بھابھی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ اس نے مزید کہا کہ وہ خود، اس کی بیوی اور بچے اس حملے میں بال بال بچ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد سے گلگت بلتستان جانے والی تمام مسافر بس سروسز کو سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا
ملزمان کی شناخت
مظہر اقبال نے ایف آئی آر میں جن ملزمان کو نامزد کیا ہے ان میں سر بلند، منیر خان، اسد شاہ، اور عمران (تمام کا تعلق جہانگیرہ سے) اور واجد اور محمد حسین (بابینئی سے) شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کی انٹرا پارٹی الیکشن کیس کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست دائر
مدعی کا مطالبہ
مدعی نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ان افراد کے خلاف غیر قانونی طور پر گھر میں گھسنے، اہل خانہ پر حملہ کرنے، جسمانی نقصان پہنچانے، اور اس کے بھائی اور بھابھی کے قتل کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک سال میں کرپشن کی مد میں کتنے سو ارب روپے برآمد کیے گئے؟ قومی احتساب بیورو کے تہلکہ خیز انکشافات
واقعہ کی تحقیقات
مردان کے ضلعی پولیس افسر کے ترجمان محمد فہیم نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ مقتول جوڑے نے تقریباً 17 سال قبل پسند کی شادی کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ظفر اقبال کئی سال بعد اپنے بھائی کے گھر واپس آیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر سہیل شوکت بٹ کا تحصیل علی پور کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ
ملزمان کی گرفتاری کا عمل
فہیم کا کہنا تھا کہ مبینہ طور پر خاتون کے خاندان کے افراد نے حملہ کیا اور موقع سے فرار ہو گئے، تاہم ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سویرا ندیم کے وزن میں کمی پر سنیتا مارشل اور روبینہ اشرف کا ردِعمل آگیا۔
لاشوں کی منتقلی
انہوں نے کہا کہ لاشوں کو تحصیل کٹلانگ کے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ظفر کے بھائی نے جبر پولیس اسٹیشن کی ٹیم کو اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔
یہ بھی پڑھیں: حج 2025 سستا کرنے کیلئے وزارت مذہبی امور کو بڑی کامیابی مل گئی
غیرت کے نام پر قتل کا مسئلہ
غیرت کے نام پر قتل ایسے افراد، خصوصاً خواتین، کا قتل ہے جنہیں خاندان کے افراد یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے خاندان کی عزت کو نقصان پہنچایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروانے پر توہین عدالت کی درخواست دائر
حالیہ اعداد و شمار
پاکستان میں غیرت کے نام پر 2024 کے دوران بھی خواتین کی جانیں لی جاتی رہیں، جو معاشرے میں رائج ’عزت و غیرت’ کے گہرے تصورات کی عکاسی کرتا ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات ملک بھر میں جاری رہے، جن میں سندھ اور پنجاب میں خاصی تعداد دیکھی گئی۔
ماضی کے واقعات
جنوری سے نومبر کے درمیان کل 346 افراد غیرت کے نام پر قتل کا نشانہ بنے، پچھلے دو سالوں میں بھی ان واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ 2023 میں 490 غیرت کے نام پر قتل کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے جبکہ 2022 میں یہ تعداد 590 تھی。








