فیصل آباد کے نوجوان لڑکے اور لڑکی کو مردان میں قتل کر دیا گیا
خواتین کے خلاف غیرت کے نام پر قتل
مردان (ویب ڈیسک) خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے مولانا کلی فاطمہ میں فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اہم شہر میں 13 سالہ سگی بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنوانے والی ماں کو گرفتار ، افسوسناک انکشاف
قتل کی تفصیلات
پولیس کو دی گئی ایف آئی آر کے مطابق مقتول شخص کے بھائی مظہر اقبال نے بتایا کہ اس کا 51 سالہ بھائی ظفر اقبال کئی سال بعد فیصل آباد سے مردان واپس آیا تھا۔ اس کے ہمراہ اس کی بیوی فرزانہ عرف گل بی بی، عمر 40 سال، بھی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: عافیہ صدیقی وطن واپسی کیس: حکومت وفد امریکا بھیجے گی، اٹارنی جنرل نے آگاہ کردیا
حملے کا بیان
مظہر اقبال نے بیان دیا کہ یہ جوڑا اس کے گھر موجود تھا جب ملزمان نے زبردستی گھر میں داخل ہو کر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں اس کا بھائی اور بھابھی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ اس نے مزید کہا کہ وہ خود، اس کی بیوی اور بچے اس حملے میں بال بال بچ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: کے پی اسمبلی کے کور کمانڈر کو خط پر تنازع کھڑا ہوگیا، سکیورٹی ذرائع نے خط غیر آئینی قرار دیدیا
ملزمان کی شناخت
مظہر اقبال نے ایف آئی آر میں جن ملزمان کو نامزد کیا ہے ان میں سر بلند، منیر خان، اسد شاہ، اور عمران (تمام کا تعلق جہانگیرہ سے) اور واجد اور محمد حسین (بابینئی سے) شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی یوم ڈاک، وزیر اعلیٰ پنجاب کا محکمہ ڈاک کے ملازمین کو خراج تحسین
مدعی کا مطالبہ
مدعی نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ ان افراد کے خلاف غیر قانونی طور پر گھر میں گھسنے، اہل خانہ پر حملہ کرنے، جسمانی نقصان پہنچانے، اور اس کے بھائی اور بھابھی کے قتل کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: خضدار سکول بس پر حملے میں شہید طلبہ کی تعداد 5 ہوگئی
واقعہ کی تحقیقات
مردان کے ضلعی پولیس افسر کے ترجمان محمد فہیم نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ مقتول جوڑے نے تقریباً 17 سال قبل پسند کی شادی کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ظفر اقبال کئی سال بعد اپنے بھائی کے گھر واپس آیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی اور بلوچستان میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.2 ریکارڈ
ملزمان کی گرفتاری کا عمل
فہیم کا کہنا تھا کہ مبینہ طور پر خاتون کے خاندان کے افراد نے حملہ کیا اور موقع سے فرار ہو گئے، تاہم ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قرآن خوانی کرنے والوں پر پانی چھوڑنے والی حرکت جس نے بھی کی یہ معاملہ ہم نے اللہ پر چھوڑ دیا ہے، شفیع جان
لاشوں کی منتقلی
انہوں نے کہا کہ لاشوں کو تحصیل کٹلانگ کے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ظفر کے بھائی نے جبر پولیس اسٹیشن کی ٹیم کو اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔
یہ بھی پڑھیں: اب یہی رہ گیا ہے کہ عثمان طارق اپنے گلے میں لکھ کر ڈال لیں میں کلیئر ہوں، سلمان آغا
غیرت کے نام پر قتل کا مسئلہ
غیرت کے نام پر قتل ایسے افراد، خصوصاً خواتین، کا قتل ہے جنہیں خاندان کے افراد یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے خاندان کی عزت کو نقصان پہنچایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریلوے کی آمدنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر
حالیہ اعداد و شمار
پاکستان میں غیرت کے نام پر 2024 کے دوران بھی خواتین کی جانیں لی جاتی رہیں، جو معاشرے میں رائج ’عزت و غیرت’ کے گہرے تصورات کی عکاسی کرتا ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات ملک بھر میں جاری رہے، جن میں سندھ اور پنجاب میں خاصی تعداد دیکھی گئی۔
ماضی کے واقعات
جنوری سے نومبر کے درمیان کل 346 افراد غیرت کے نام پر قتل کا نشانہ بنے، پچھلے دو سالوں میں بھی ان واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ 2023 میں 490 غیرت کے نام پر قتل کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے جبکہ 2022 میں یہ تعداد 590 تھی。








