پنجاب کابینہ میں 5335 ارب روپے کا بجٹ منظور، تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ
صوبائی کابینہ کا اجلاس
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف کی سربراہی میں صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں صوبائی کابینہ نے آئندہ مالی سال کے لیے 5335 ارب روپے حجم کے بجٹ کی منظوری دیدی۔
یہ بھی پڑھیں: 20 ماہ کے دوران صدر مملکت اور وزیراعظم کے غیرملکی دوروں کی تفصیلات منظرعام پر آگئیں
ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق کابینہ کے بجٹ اجلاس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ اور پنشن میں 5 فیصد اضافہ کرنے کی منظوری دی گئی، ترقیاتی بجٹ میں 47.2 فیصد اضافہ کرتے ہوئے 1,240 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور سے جدہ جانے والی پی آئی اے کی پرواز پرندہ ٹکرانے کے بعد کراچی میں اتار لی گئی
تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافہ
کابینہ نے آئندہ مالی سال کے لیے تعلیم کا بجٹ 21.2 فیصد اضافہ کے ساتھ 811.8 ارب روپے ، صحت کا بجٹ 17 فیصد اضافے سے 630.5 ارب روپے رکھنے کی منظوری دی، زراعت کے لیے 10.7 فیصد اضافہ کے ساتھ 129.5 ارب روپے مختص کئے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی وزیر اعظم کل سے چین کا دورہ کریں گے
غیر ملکی فنڈڈ منصوبے اور جاری اخراجات
بجٹ میں غیر ملکی فنڈڈ منصوبوں کے لیے 171.7 ارب روپے تجویز کیے گئے، جاری اخراجات کا حجم 2,026.7 ارب روپے رہے گا، سروس ڈیلیوری اخراجات میں 5.8 فیصد کمی کرتے ہوئے 679.8 ارب روپے مختص کیے گئے، بلدیاتی حکومتوں کو 934.2 ارب روپے کی منتقلی کی منظوری دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈمارشل سید عاصم منیر سے انڈونیشیا کے صدر کی ملاقات
ریونیو ہدف اور ٹیکس وصولیاں
ایف بی آر کا ٹارگٹ 14,131 ارب، پنجاب کا حصہ 4,062.2 ارب روپے، پنجاب کا اپنا ریونیو ہدف 828.1 ارب روپے مقرر کیا گیا، ٹیکس وصولیوں کا ہدف 524.7 ارب، نان ٹیکس آمدن 303.4 ارب روپے رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے غذر میں 300 انسانی جانیں بچانیوالے چرواہوں کو اسلام آباد مدعو کرلیا
پنجاب ریونیو اتھارٹی کا محصولاتی ہدف
پنجاب ریونیو اتھارٹی کا محصولاتی ہدف 13 فیصد بڑھا کر 340 ارب، اربن امویبل پراپرٹی ٹیکس کا ہدف 32.5 ارب روپے مقرر کرنے کی منظوری دی گئی۔
تخمینی بجٹ سرپلس اور سبسڈی
کابینہ کو پیش بجٹ میں تخمینی بجٹ سرپلس 740 ارب روپے، ہدف شدہ سبسڈی 72.3 ارب روپے رکھی گئی، پنجاب بورڈ آف ریونیو کا ریونیو ہدف 105 ارب روپے کرنے کی منظوری دی گئی۔








