کیا امریکہ، ایران-اسرائیل جنگ میں شامل ہوگا یا نہیں؟ ٹرمپ نے عندیہ دے دیا
امریکی صدر کا نیا عندیہ
نیویارک (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ امریکا ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں شامل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بسنت، موچی گیٹ اندرون لاہور میں قدیم حویلی کی چھت کاریٹ 1 کروڑ لگ گیا
ٹرمپ کی گفتگو
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق امریکی ٹی وی کی سینئر صحافی ریچل اسکاٹ سے آف کیمرا گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ "یہ ممکن ہے کہ ہم ایران اور اسرائیل کی اس لڑائی میں شامل ہو جائیں"، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال امریکا کسی فوجی کارروائی میں ملوث نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران، امریکہ جوہری مذاکرات کے چھٹے دور کل ہوگا یا نہیں۔ اہم خبر آ گئی۔
روسی صدر کا ممکنہ کردار
ٹرمپ نے ایران اسرائیل تنازعے میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ممکنہ ثالثی کردار کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ اگر پیوٹن ثالثی کریں تو وہ اس کے لیے کھلے دل سے تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں شہریوں کو جعلی ٹریفک چالان کے میسیجز ملنے لگے
ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جاری ہیں اور موجودہ کشیدہ صورتحال کے باعث ایران اب ممکنہ طور پر معاہدے کے لیے زیادہ آمادہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر کی ہدایت پر بھارت سے واپس آنے والے 2 بہن بھائی اب کہاں ہیں؟ تفصیلات منظر عام پر
مذاکرات کا چھٹا دور اور امن کا امکان
یاد رہے کہ ایران نے اتوار کو امریکا کے ساتھ مذاکرات کا چھٹا دور منسوخ کر دیا تھا، جو پہلے سے طے شدہ تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان میں کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جلد ہی امن قائم ہوگا کیونکہ متعدد غیراعلانیہ ملاقاتیں ہو رہی ہیں اور دونوں ممالک کو معاہدہ کرنا چاہیے۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران اور اسرائیل کو معاہدہ کرنا چاہیے اور معاہدہ کریں گے اور ہمیں جلد ہی امن دیکھنے کو ملے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا بھتیجا ہیوسٹن میں قتل
بھارت اور پاکستان کی مثال
انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی سفارتی پیش رفت کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ اُس وقت انہوں نے دونوں ملکوں کو تجارت کی دلیل دے کر معاہدے پر آمادہ کیا اور دونوں رہنماؤں نے فوری فیصلہ کر کے کشیدگی کو ختم کیا۔
علاقائی صورتحال میں اہمیت
خطے کی حالیہ صورتحال میں ٹرمپ کے بیانات کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے، خصوصاً اس وقت جب اسرائیل اور ایران کے درمیان فضائی حملوں کا تبادلہ شدت اختیار کر چکا ہے اور عالمی برادری جنگ کے پھیلنے کے خدشات کا اظہار کر رہی ہے۔








